حضرت مرزا شریف احمد ؓ — Page 22
خاکسار سے بیان فرمائے تھے جن سے آپ کا خدا تعالیٰ سے اعلیٰ تعلق اور پورے بھروسے کا اظہار ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا ایک دفعہ آپ شکار کی غرض سے ریاست کپورتھلہ تشریف لے گئے۔شکار میں زیادہ وقت صرف ہو جانے کی وجہ سے رات آپ کو ایک گاؤں میں گزارنی پڑی۔جس گھر میں آپ مہمان ٹھہرے اس گھر کا ایک بچہ اسی رات اچانک کہیں کھو گیا اور باوجود تلاش کے نہ ملا۔آپ نے فرمایا کہ " مجھے یہ احساس ہوا کہ کہیں یہ لوگ یہ نہ خیال کریں کہ میری آمد پر بچہ کی طرف سے بے پرواہ ہونے کی وجہ سے بچہ گم ہو گیا ہے۔میں نے خاص توجہ سے خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرنی شروع کی۔اے خدا میں ان کے گھر میں مہمان ہوں میرے ہوتے ہوئے ان کو کوئی دکھ نہ پہنچے اور تو ان کا بچہ واپس پہنچا دے۔دعا کی حالت میں ہی مجھے غنودگی میں ایک بچہ دکھلایا گیا جسے ایک بوڑھا شخص گھر کی طرف لے کر آرہا تھا۔“ آپ نے سب گھر والوں کو اسی وقت اطلاع دی کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو بتلایا ہے وہ بچہ ایک بوڑھے شخص کے ساتھ بخیریت گھر پہنچ جائے گا۔اس لئے سب آرام سے سو جائیں۔صبح سویرے ہی ایک بوڑھا شخص اس بچے کو لئے ہوئے آیا اور اس نے کہا کہ یہ بچہ گاؤں سے چھ میل دور گھاس کے ایک ڈھیر میں پڑا سو رہا تھا۔اس بچے سے دریافت کیا گیا تو معلوم ہوا کہ گھر سے باہر ایک گاڑی گزر رہی تھی وہ اس کے پیچھے بیٹھ گیا۔گاڑی والے نے چھ میل کے فاصلے پر جانے کے بعد اسے اتار دیا۔وہ رات وہیں روتا روتا سو گیا۔صبح ایک 22