حضرت مرزا شریف احمد ؓ — Page 6
بچپن میں کشمیر کا ایک سفر 1909ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سری نگر تشریف لے گئے۔آپ کے ہمراہ حضرت صاحبزادہ صاحب بھی تھے۔بچپن کے ان دنوں کا یہ واقعہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی بیان فرماتے ہیں کہ میں چھوٹا تھا کہ ہم سری نگر جاتے ہوئے ایک گاؤں میں سے گزرے۔اس وقت موٹریں نہ تھیں ، ٹانگوں پر جاتے تھے۔گاؤں والوں سے ہم نے مرغ مانگا۔مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ اس گاؤں میں تو و با پڑی تھی اور وہ سب مر گئے۔میرے چھوٹے بھائی بھی میرے ساتھ تھے جن کی عمر اس وقت 13 سال تھی۔وہ ایک گھر میں گھس گئے اور واپس آکر کہا اس میں 40 سے زائد مرغ تھے۔میں نے سمجھا بچہ ہے غلطی لگی ہوگی۔لیکن پاس ہی صحن تھا۔میں نے جو ادھر نظر کی تو واقعی صحن مرغوں سے بھرا ہوا تھا۔“ آل انڈیا کشمیر کمیٹی اور احرار، ص 16-17) پرندوں کا شکار کرنا حضرت صاحبزادہ صاحب کو بچپن سے ہی شکار کی عادت تھی۔آپ کا نشانہ بہت پکا ہوتا تھا اور جب بھی گھر سے شکار کے لئے نکلتے کچھ نہ کچھ ضرور شکار کر کے ہی گھر لوٹتے۔5 فروری 1911ء کی صبح سید نا حضرت خلیفہ المسیح الاول نے قرآن کریم کے 6