حضرت مرزا شریف احمد ؓ

by Other Authors

Page 33 of 44

حضرت مرزا شریف احمد ؓ — Page 33

بھی تعلیم حاصل کی تھی۔آپ حصول تعلیم کے لئے وہاں داخل ہوئے تھے۔لیکن تعلیم کو جاری نہ رکھ سکے اور جلد واپس آنا پڑا۔اس بات کا آپ کو شوق تھا کہ اپنے عزیز واقرباء کے بچوں سے قرآن سنیں اور تلفظ کی تصحیح فرمائیں۔سید مبارک احمد صاحب کا رکن دفتر اصلاح وارشاد کہتے ہیں کہ مجھ سے سیر کو جاتے ہوئے کلام پاک سنتے غلطیاں نکالتے اور فرماتے لمبی لمبی سورتیں زبانی یاد کرنی چاہیں اس سے حافظہ بھی بڑھتا ہے اور ثواب بھی زیادہ ہوتا ہے۔صباح الدین صاحب روایت کرتے ہیں کہ قرآن پاک کی تلاوت سنتے وقت میں نے خود آپ کی آنکھوں کو آبدیدہ دیکھا ہے۔بے تکلفی حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب فرماتے ہیں: قادیان میں کارخانہ کے ضمن میں انگریز افسر آتے ، آپ نہایت بے تکلفی سے ان سے بات کرتے۔لیکن چونکہ آپ کی گفتگو معلومات سے پُر ہوتی اور نہایت درجہ موثر ہوتی اس لئے آپ کی بات کا افسر کبھی انکار نہ کرتے اور جو افسر بھی آتا آپ کا گرویدہ ہوکر جاتا اور ہمیشہ آپ کا احترام کرتا۔راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ کی اس دعا کا نتیجہ تھا عیاں کر ان کی پیشانی اقبال نہ آوے ان کے گھر تک رعب دجال 33