حضرت مرزا شریف احمد ؓ — Page 25
گرایا ہے اور اس کے فلاں جگہ پر گولی لگی ہے۔جو کہ عین اسی جگہ پائی جاتی۔( روزنامه الفضل ربوہ 21 جنوری 1962 ءص4-3) حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق مکرم جمعدار نادر علی صاحب آف چنیوٹ لکھتے ہیں: ماہ رمضان میں جب حضرت میاں صاحب کی طبیعت اچھی ہوتی تو صبح کی نماز کے بعد مسجد مبارک میں درس دیا کرتے۔جب کبھی اور جتنی دفعہ حضرت رسول کریم ع کی تکالیف کا ذکر آتا تو بوجہ رفت حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔ایک دن صبح کی نماز کے بعد مسجد مبارک میں مسلمان بادشاہوں کی جرات اور دلیری کا ذکر فرمارہے تھے۔مثال کے طور پر ٹیپو سلطان والی میسور کا ذکر آیا تو اس کی بہادری اور جرات مندانہ موت کا ذکر فرماتے ہوئے آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اور آپ پر رقت طاری ہوگئی۔حضرت میاں صاحب پیدل چلنے کے عادی تھے۔جب کبھی کوئی ضرورت مند مسافر سڑک پر دکھائی دیتا تو اس کو اس کی منزل تک پہنچنے کا کرایہ دیتے۔اگر کوئی مسافر شام کو مل جاتا تو اسے خود مہمان خانہ میں اپنے ساتھ لا کر اس کی رہائش کا انتظام فرماتے اور اگر کوئی آدمی میلے کپڑوں والا مل جاتا تو اسے صابن خرید نے 25