حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 14 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 14

۱۴ نے جلسہ سالانہ ۱۹۲۴ ء پر فرمایا :- اس سال چھٹیوں کے ایام میں ہمارے سکولوں کے طلباء ڈیڑھ ہزار کے قریب چندہ جمع کر کے لائے۔چند ہ لانے والے طلباء میں میرا لڑکا ناصر احمد بھی تھا جو - ۳۶ اس لیے لایا تھا حالانکہ اس کو کبھی اس سے پہلے دوسروں سے چندہ لینے کا موقعہ نہ ملا تھا " صحیح جسمانی اور ذہنی نشو نما کے لئے مختلف کھیلیں بھی کھیلتے رہے مثلاً فٹ بال ہاکی ، کرکٹ ٹینس ، اسکوائش ریکٹ ، میروڈیہ ، گلی ڈنڈا اور کلائی پکڑنا۔اور سب سے زیادہ جس کھیل کو شوق سے آپ نے کھیلا اور آخری عمر تک کھیلتے رہے وہ شکار ہے۔اپنے بے شمار پرانے واقعات شکار کے متعلق سنایا کرتے تھے ایک مرتبہ آپ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ قریبا ڈیڑھ من مرغابی کا شکار فرمایا۔آپ کا نشانہ بہت اچھا تھا۔آخری علالت میں ایک روز مجھ سے فرمانے لگے :۔یکن کب ٹھیک ہوں گا اور اپنے لیے بوٹ پہن کو شکار کے لئے جاؤں گا۔بچپن میں قوت برداشتے کا ایک واقعہ آپ جب پندرہ برس کے تھے تو آپ کے بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ہڈی مکمل طور پر ٹوٹ گئی تھی اور ٹوٹا ہوا حصہ اوپر والے حصہ پر چڑھ گیا تھا۔انتہائی تکلیف کا سامنا تھا۔لیکن آپ نے کمال برداشت کا نمونہ دکھایا۔اپنا یہ واقعہ مجھے سناتے ہوئے فرمایا۔کہ بڑے ماموں جان رحضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے بڑھی کو بلوایا