حضرت مرزا ناصر احمد — Page 95
۹۱ میری پلیٹ میں ڈالتے اور مجھے لانگا وہ کھانا ہوتا۔چونکہ باورچی ہمارا ناشتہ پہلے سے بنا کر HOT PLATE پر رکھ جاتا تھا اس لئے چند مرتبہ ایسا ہوا کہ میری چپاتی با لکل اکٹر چکی تھی۔میں کسی ناپسندیدگی کا اظہار کئے بغیر اسے کھا رہی تھی لیکن آپ کی طبیعت بہت حساس تھی۔مجھ سے کہنے لگے '' مجھے فکر ہے کہ میں تمہیں ناشتہ اچھا نہیں دے رہا " رات کو سونے سے پہلے آپ کو دودھ پینے کی عادت تھی اور میں آپ کے لئے روزانہ دودھ کا ایک مگ کمرے میں رکھتی۔مجھے تب دور جو بالکل پسند نہ تھا۔آپ نے مجھ سے کہا تم اپنے لئے بھی دودھ رکھا کر و۔میں نے کہا مجھے اچھا نہیں لگتا۔آپ نے مجھے اپنے منگ میں سے پینے کے لئے کہا۔میں نے ایک گھونٹ پیا۔آپ نے فرمایا۔اور پیو۔اور پھر یوں کرتے کرتے چار گھونٹ پلوائے۔دوسرے دن بھی ایسا ہی ہوا۔میں پہلے سمجھی کہ شاید ایک دو دن کی بات ہے۔لیکن آپ نے روزانہ دودھ پینے سے پہلے مجھے کہنا کہ تم پیو اور چار گھونٹ پلوانے۔پھر جب مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ تو روزانہ پینا پڑے گا تو میں نے چھوٹے چھوٹے گھونٹ لینے شروع کردیے۔لیکن مجھے ہمیشہ ہی چار گھونٹ پینے پڑتے۔اور آپ کی یہ خاص عادت میں نے دیکھی کہ آپ جو چیز بھی خود استعمال فرماتے ، خواہش رکھتے کہ میں بھی وہی استعمال کروں۔کھانے پر اکثر آپ مختلف مشروبات استعمال فرماتے اور لازم تھا کہ جو آپ پلیٹیں وہی مشروب میں بھی پیوں۔مجھے سیب چھیل اور کاٹ کہ دینے کے لئے فرماتے۔جب میں تیار کر کے پلیٹ آپ کی طرف بڑھاتی تو آپ کا ہمیشہ کا معمول تھا کہ آپ نصف ٹکڑے اپنی طرف کر لیتے اور نصف میری طرف بڑھا دیتے اور فرماتے۔کھاؤ " آہستہ آہستہ میں نے یہ بھی دیکھا کہ اگر چہ آپ