حضرت مرزا ناصر احمد — Page 128
۱۲۲ ہے۔وفات سے دو یا تین روز پہلے رات کے تقریباً گیارہ بجے تربوز کھا رہی تھی حضور کی طبیعت میں مزاح کا پہلو بہت تھا۔ہلکی سی آنکھ کھولی۔دیکھ کر مسکرائے اور فرمانے لگے ” ایک بج گیا ہے میں نے تو اپنی گھڑی کا وقت ٹھیک کرنا تھا۔“ ہر احمدی کو ہمیشہ اس بنیادی اصول پر عمل کرنے کی تلقین کی جاتی ہے کہ اس نے کبھی بھی قانون شکنی نہیں کرنی۔میں جب میڈیکل کالج میں پڑھتی تھی تو ایک بار ہمارے کچھ پرچے چوری ہو گئے۔اسی ضمن میں ہماری کلاس نے سٹرایک کہ دی میں نے بھی اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہوئے اس میں حصہ لیا حضور کو جب علم ہوا تو آپ نے مجھے بلوایا اور فرمایا کہ تمہیں علم ہے کہ ایک بار سٹرائیک میں حصہ لینے پر حضرت مرزا عزیز احمد صاحب کا جماعت سے اخراج ہونے لگا تھا۔میں نے کہا کہ وہ چوروں کو نہیں پکڑتے تھے۔آپ نے فرمایا تمہیں اس سے کیا ؟" سو حضور نے زمی اور پیار سے بھی اور سختی سے بھی مجھے منع فرمایا۔چنانچہ اس کے بعد میں نے کبھی کسی سٹرائیک میں حصہ نہ لیا۔اور کالج کی باقی سب احمدی لڑکیوں کو بھی حضور کا ارث دبتا دیا۔بعد میں ازراہ مذاق حضور مجھے STRIKE LEADER۔کہہ کر چھیڑتے تھے۔رشک اور حد دو ایسے جذبے ہیں جن کا درمیانی فاصلہ اگر چہ بہت کم ہے لیکن ان میں سے پہلا جذبہ تو انسان کو ہمیشہ ترقیات کی طرف لے جاتا ہے اور دوسرا جذ بہ انسان میں موجود خوبیوں کو بھی تباہ کر دیتا ہے۔رشک خیر کی طرف لے جاتا ہے اور حسد مشر کی طرف۔آپ نے مجھے شروع دن سے ہی حضرت نواب منصورہ بیگم صاحبہ نوراللہ مرقدھا کے اوصاف کا ذکر کرتے ہوئے نصیحت