حضرت مرزا ناصر احمد — Page 98
۹۴ اپنی ریزہ گاری اس میں ڈال دیا کرتی تھی۔شادی کے وقت میں وہ اپنی گڑیا ساتھ ہی سے آئی اور پھر ایک روز میں نے آپ کو دکھائی۔آپ پلنگ پر بیٹھے تھے۔آپ نے اپنی SIDE TABLE) سائیڈ ٹیبل کا درانہ کھولا اس میں سے ایک روپیہ نکالا اور میری گڑیا میں ڈال دیا۔تھوڑے دن ہوئے میری ایک پرانی دوست جو کہ ہوسٹل میں میرے کمرے میں ہی رہتی تھیں ملنے آئیں تو اس گڑیا کا حال مجھ سے پوچھا۔مجھے یہ سارا واقعہ یاد آ گیا۔آپ کے چہرے کے تاثرات میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔صرف انہیں یاد کر سکتی ہوں۔" دبعد میں میں نے وہ گڑیا اپنی ایک بھانجی کو فرسٹ آنے پر انعام میں دیدی تھی ) حضور اپنے کمرے میں اپنے لئے پانی کی تھرماس اور کٹوری رکھواتے تھے۔اور وقتاً فوقتاً اس میں سے پانی پیتے۔ایک روز آپ پانی پینے لگے تو کٹوری میں پہلے سے ہی کچھ پانی موجود تھا۔وہ پانی میرا بچا ہوا تھا۔آپ نے اسے منہ سے لگایا ہی تھا کہ میں بے اختیار یہ کہتے ہوئے آپ کی طرف بڑھی کہ " میرا جوٹھا۔آپ مسکرائے اور فرمایا " تمہار سے اور میرے جوٹھے میں کوئی فرق ہے ؟ اور وہی پانی پی لیا۔مجھے خوش دیکھتے تو خوشی محسوس کرتے اور اگر ذرا بھی خاموش ہو جاؤں تو فکر مند ہو جاتے۔شادی کے دو تین دن بعد امی کی طرف سے فون آیا۔آپ کرے میں بیٹھے تھے اور میں گیلری میں موجود فون پر باتیں کر رہی تھی۔مجھے خیال نہیں تھا کہ آپ میری باتیں سن رہے ہیں۔میری ایک بھتیجی نے پوچھا۔آپ خوش ہیں یا میں نے کہا۔ہاں خوش ہوں۔اس نے کہا " بالکل ایکس نے جواب دیا " بالکل سے بھی زیادہ " آپ میرے جوابات سے ہماری گفتگو کا اندازہ کر چکے تھے۔میں کمرے میں واپس آئی