حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 96 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 96

۹۴ منع نہیں کرتے تھے لیکن آپ کی خواہش ہوتی کہ جو چیز آپ نہ کھائیں وہ میں بھی نہ کھاؤں۔شاید یہ آپ کی گہری محبت کا ہی ایک اندازہ تھا۔مجھے بچپن سے ہی مرغ کی گردن پسند تھی اور میں ہمیشہ وہی کھاتی تھی۔شادی کے بعد بھی میں نے اپنی عادت کے مطابق اپنی پلیٹ میں گردن ڈالی۔- آپ نے دیکھا تو فرمایا " تم نے گردن لی ہے میں نے کہا۔" مجھے یہ پسند ہے " اس پر آپ نے فرمایا کہ مرغ کے گوشت میں سب سے اچھا گوشت گردن کا ہی ہوتا ہے کیونکہ اس کا ریشہ سب سے زیادہ باریک ہوتا ہے اور پھر اس روز کے بعد سے آپ کا یہ معمول تھا کہ گھر پر کھانا کھا رہے ہوں یا کسی دعوت میں ہوں آپ ہمیشہ ڈش میں سے پہلے گردن نکال کر میری پلیٹ میں ڈال دیتے اور اگرنٹے لوگ ساتھ ہوں تو یہ بھی فرما دیتے کہ انہیں گردن پسند ہے۔آپ کو مرغ کی پشت کی ہڈی کی گہرائی میں واقع چھوٹی سی بوٹی پسند تھی۔ایک روز مجھے وہ نکال کر دی اور اپنی پسند کا اظہار بھی فرمایا۔پھر اتفاق سے جب ایک روز وہ میری پلیٹ میں آگئی تو میں نے آپ کی پسند کے پیش نظر آپ کو نکال کردی مجھ سے لیتے ہوئے مسکرا کر فرمایا : " اچھا آج میری باری ہے۔روزمرہ زندگی میں ہونے والے معمولی واقعات کو بھی حسین بنا دیتے۔ہم بھوربن (مری) سیر کے لئے گئے۔وہاں آپ نے ایک ہاتھ کا بنا ہوا بیوہ جس میں الائچیاں اور خلال تھے مجھے دیتے ہوئے فرمایا۔" یہ بھوربن کا تحفہ" اور " فرمایا۔یہ اپنے پرس میں میرے لئے ساتھ رکھا کر دیا اب اسی بات کو ایک خشک مزاج انسان صرف یوں کہہ دیتا کہ ان چیزوں کی مجھے سفر میں ضرورت ہوتی۔پھر