حضرت مرزا ناصر احمد — Page 75
ا دور ابتلاء ۱۹۷۲ء ۱۹۷۴ ۲۹ مئی ۱۹ء کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت جماعت کے خلاف ایک ملک گیر مہم کا آغاز ہوا۔جگہ جگہ نفرتوں کی آگ پھیلائی گئی۔جذبات بھڑکائے گئے اور احمدیوں کے اموال ٹوٹے گئے۔جانیں لی گئیں۔انہیں گھر سے بے گھر کیا گیا احمدی لٹ پٹ کر ، خستہ حال اپنے روحانی باپ کے پاس آتے اور واپس اس حال میں جاتے کہ ان کے چہروں سے طلال اور دکھ کی گرد و فصل چکی ہوتی اور چہروں پر مسکراہٹیں برفانی پانی کے نالوں کی طرح بہہ رہی ہوتیں۔ء کے دورہ ابتداء میں آپ نے جماعت کی کشتی کو جس خوبصورتی ، جو صلے اور حکمت عملی سے ابتلاء کے پُر خطر راستہ سے گزارا مستقبل کا مورخ ہمیشہ اسے فخر کے ساتھ دہرائے گا۔اس دوران آپکا ایک وہ روپ تھا جو افراد جماعت اور اہل دنیا نے دیکھا۔بشاشت ، حوصله، قوت برداشت ، عزم ، استقلال ، جرأتِ بے مثال، توکل علی اللہ اور غیر متزلزل ایمان اور دوسرا روپ اس علیم اور دردمند انسان کا وہ تھا جسے صرف وہ خود جانتا تھا یا خدا تعالیٰ۔اور وہ ہروپ تھا اس عاجز انسان کا جس کی تمام تر توجہ صرف اور صرف اپنے رب کے حضور اس مشکل وقت میں اپنی زمہ داریوں کی احسن سرنگ میں ادائیگی کی تو فیق۔