حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 43 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 43

۴۳ رپورٹ پڑھی تو مجھ سے فرمانے لگے کہ دیکھوئیں نے یہ منصوبہ صرف باون لاکھ (غالبا) سے شروع کیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی برکت دی ہے کہ اب ایک ہسپتال کی آمد کی والا کھ روپے (نما ئیا ، کی رپورٹ ہے اور لکھا ہے کہ فلاں فلاں وجوہات کی وجہ سے ابھی کم آمد ہوئی ہے۔یہ منصوبہ جب سے متعلق اندازہ تھا کہ سات سال میں مکمل ہوگا۔خدا تعالی کے فضل سے ڈیڑھ دو سال میں مکمل ہو گیا اور اس کے حیرت انگیز نت نیچ ظاہر ہوئے۔الحمد لله اللہ تعالیٰ نے اس کے ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے غیر معمولی شفا رکھ دی اور دُور دُور تک ان کا شہرہ ہو گیا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس منصوبے کے تحت چلنے والے سکول بھی ان ممالک کے عوام کی غیر معمولی خدمت کی توفیق پار ہے ہیں۔خلافت ثالثہ کے اختتام تک ان ممالک میں کام کرنے والے ہسپتانوں اور سکولوں کی تعداد مندرجہ ذیل تھی :- ہسپتال : ۲۱ - سیکنڈری سکول : ۳۵ پرائمری اور مڈل سکول : ۱۰۰ سے زائد 19۔:- نشاہ تک نصرت جہاں سکیم کے تحت ۱۸ ہسپتال اور ۲۳ سکول کام کر رہے تھے۔اور اس سکیم کا بیٹ ہم کر وڑ روپے سے تجاوز کر چکا تھا۔