حضرت مرزا ناصر احمد — Page 26
۲۶ آپ فاتح الدین کے نام سے موسوم ہوتے تھے۔کشمیر کے محاذ پر اس بٹالین نے زبردست کارنامے انجام دیئے۔وہ واقعات اتنے حیرت انگیز تھے کہ ایک روز میں نے عرض کیا کہ آپ ان واقعات کو سکھوا کیوں نہیں دیتے ؟ فرمایا " ابھی اس کا وقت نہیں آیا " سری جاتے ہوئے مجھ سے فرمایا کہ فرقان فورس کے ساتھ ان راستوں پر سے گزرتے ہوئے میرے پیروں کے سارے ناخن ٹوٹ گئے تھے۔جامعہ احمدیہ کے استاد و پرنسپل یورپ سے واپسی پر ۱۹۳۵ء میں جامعہ احمدیہ کے پروفیسر مقرر کئے گئے۔جون ۱۹۳۹ ء میں حضرت مصلح موعود نے آپ کو جامعہ احمدیہ کا پرنسپل مقرر فرمایا۔اپریل ۱۹۱۲ ء تک آپ اس ادارے کی نگرانی فرماتے رہے۔جامعہ احمدیہ کے ساتھ آپ کی وابستگی پہلے پروفیسر اور پھر پرنسپل کی حیثیت سے ہوئی۔آپ نے طلباء کو انگریزی اور فلسفہ کا مضمون پڑھایا۔تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ نے طلباء کی جسمانی اور روحانی فشود نما کا بھی بھر پور خیال رکھا۔آپ نے اس ادارہ کی کس طرح آبیاری کی یہ بات آپ کے اس بیان سے بخوبی واضح ہو جاتی ہے یہ م اس زمانہ میں جب میں جامعہ احمدیہ میں تھا تو میں نے دل اور دماغ اس ادار سے کور سے دیا تھا اور بڑی محبت سے اس کی نشو و نما کی طرف توجہ کی تھی الفضل ا ضروری نشراء۔۔