حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 25 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 25

۲۵ کمہ نے کی بھی سعادت علی تقسیم ملک کے وقت قادیان کی کچھ مسلمان عورتیں ایک جگہ محصور ہو گئیں۔سکھوں کے حملہ کا خطرہ تھا اور انہیں وہاں سے بحفاظت نکالنا ضروری تھا۔اس مقصد کے لئے اُس جگہ اور اس کے ملحقہ جگہ کے درمیان لکڑی کا پل بنوا کر بڑی محنت کے ساتھ ان خواتین کو وہاں سے نکالا گیا۔اس دوران دشمن کی گولی لگنے سے ایک احمدی شہید بھی ہوئے۔حضور نے یہ واقعہ بھی مجھے خود بتایا۔اس مہم کا ایک واقعہ جو عورتوں سے تعلق رکھتا ہے اور آپ نے مجھے سنایا وہ پیش ہے۔اس وقت قادیان میں مسلمانوں کو پناہ دینے کے لئے کیمپ قائم کئے گئے تھے وہاں بہت سی مسلمان عورتوں کا یہ حال تھا کہ کپڑے نہ ہونے کے باعث اپنی ستر پوشی بھی نہ کر سکتی تھیں۔آپ نے فرمایا کہ میں نے منصورہ بیگم کے جہیز کے ٹینک کھولے اور وہ سب کپڑے ان عورتوں میں تقسیم کر دیئے۔ان میں سے بعض جوڑے اتنے قیمتی تھے کہ اس وقت ان کی قیمت پانچ پانچ ہزار روپے تھی۔ایک خاص بات جس کا آپ کے دل پر گہرا اثر تھا۔کہ حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ نے کبھی اشارہ بھی آپ سے اس بات کا ذکر نہ کیا کہ آپ نے وہ کپڑے کیا کئے یا کیوں دیئے۔فرقان بٹالین کی کمیٹی کی مبرشپ جون شراء سے جون ای تک فرقان بٹالین سرگرم عمل رہی۔آپ رپرست کمیٹی کے ایک ممبر نامزد فرمائے گئے۔فرقان فورس کے فوجی اشارات میں