حضرت مرزا ناصر احمد — Page 173
140 پھر حضرت مصلح موعود کے حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کے لئے فدائیت اور اطاعت کے بہت سے واقعات ملتے ہیں۔ایک چھوٹے سے واقعہ سے ہی ہردو خلفاء کی اپنی اپنی جگہ پر اپنے آقا کے لئے محبت واضح ہو جاتی ہے۔حضرت خلیفہ مسیح الدل بیمار تھے حضرت مصلح موعود آپ کے پاس تشریف فرما تھے۔گھر سے پیغام ملا کہ بچے ر صاحب کی طبیعت بہت ناسانہ ہے۔لیکن آپ نے مطلقاً اپنے بچے کی بیماری کی پرواہ نہ کی۔جبکہ اس سے پہلے آپ کا ایک بچہ وفات پا چکا تھا اور اب یہی بچہ پہلو بھٹی کا بچہ تھا اور اپنے آقا کی بیمار پرسی اور تیمارداری کو اول جانا۔ادہر حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کا عشق حضرت مسیح موعود( آپ پر سلامتی ہوا سے اتنا زیادہ تھا کہ آپ برداشت نہ کر سکے کہ ان کی اولاد کو کوئی تکلیف ہو۔چنانچہ آپ نے حضرت مسیح موعود سے بچے کی نسبت یاد دلاتے ہوئے با اصرار حضرت مصلح موعود کو بچے کی تیمار داری کے لئے بھجوا دیا۔اسی طرح حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کو جو محبت حضرت مصلح موعود سے تھی وہ اس محبت سے کہیں زیادہ بڑھ کر تھی جو محبت ایک بچے کو اپنے بہت پیارے باپ سے ہوتی ہے۔ایک دفعہ اداس لہجے میں حضرت مصلح موعود کی وفات کے وقت جماعت کی صدمے کی حالت کا مجھ سے ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں حضرت مصلح موعود کی زندگی میں تو ان کی وفات کے متعلق سوچنا بھی گناہ سمجھتا تھا۔" پھر میں نے اطاعت و محبت کا یہی رنگ حضرت خلیفہ مسیح الرابع ایده اله تعالٰی کی ذات میں حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کے لئے دیکھا۔آپ نے حضور کی