حضرت مرزا ناصر احمد — Page 167
۱۵۹ گرمیوں میں کاٹن کی جرا میں استعمال فرماتے۔نائمون کی پسند نہ تھیں جو جوتا باہر پہنتے وہ کمرے میں نہ سے کہ آتے بلکہ اسے باہر ہی اتار دیتے۔ناخن نہایت صفائی اور خوبصورتی سے تراشتے۔یوں لگتا جیسے پر کار رکھ کر انہیں تراشا ہے۔EXERCISE کے لئے اپنے DRESSING ROOM میں رکھی ہوئی BICYCLE استعمال فرماتے۔فوٹو گرافی کا بہت شوق تھا۔نہایت اعلیٰ تصویریں کھینچتے اور اس بات کا خاص خیال رکھتے کہ کس رزا ویسے) ANGLE سے تصویر اچھی آئے گی۔پہلے عام نظر سے جائزہ لیتے اور انگلی کے اشارے کے ساتھ چہرے کو گھمانے کے لئے کہتے اور جب مناسب سمجھتے روک کر تصویر کھینچ لیتے۔آپ LUA - M3 کیمرہ استعمال فرماتے۔اور اس میں فلم وغیرہ خود ہی ڈالتے اور نکالتے تھے۔حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کی وفات کے بعد سے ہر جمعہ کو عصر کی نمازنہ کے بعد بہشتی مقبرہ جاتے۔میر کے لئے اکثر اپنی زمینوں پر احمد نگر جاتے اور زمینداری کے کاموں میں دلچسپی لیتے۔اپنے پالے ہوئے گھوڑوں کو اکثر دیکھنے کے لئے اصطبل میں جاتے۔ان کے ساتھ پیار سے باتیں کرتے اور انہیں اپنے ہاتھ سے چارہ کھلاتے جانور بھی آپ سے اتنے مانوس تھے کہ آپ کے اصطبل میں آتے ہی وہ اپنے اپنے باروں میں سے گردنیں باہر نکال کر کھڑے ہو جاتے۔مختصراً یہ کہ آپ نے ایک بھر پوپر ، فعال اور کارآمد زندگی گزاری اور