حضرت مرزا ناصر احمد — Page 152
یہی سمجھے کہ خون میں شکر کا لیول ( LEVEL کم ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔اگلے تین چار روز میں حضور کی طبیعت پوری طرح ٹھیک نہ ہوئی اور مجھ سے فرمانے لگے کہ میں محسوس کر رہا ہوں کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہو رہی اسی لئے اس شام (۲۶ مئی) کے بعد حضور نیچے نماز پڑھانے کے لئے بھی نہ جا سکے۔اس دوران حضور کو ہلکا ہلکا بخار بھی ہوتا رہا۔اور کھانسی کی تکلیف بھی رہی۔غالبا حضور کو دل کا حملہ ۲۲ مٹی کی شام کو ہی ہوا تھا۔لیکن فوری طور پر ای سی۔جی میں علامت نظر نہ آنے کی وجہ سے پہلے اس کا علم نہ ہوا۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ای سی جی میں فوری طور پر تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔اس لئے بار بار ای بی۔جی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے) ۲۹ مٹی کو ہمارا نتھیا گلی جانے کا پروگرام تھا۔حضور چونکہ کمزوری محسوس کر رہے تھے اس لئے پروگرام ملتوی کر دیا۔۳۰ مٹی کی شام مجھ سے فرمایا۔آج میرا دل بہت اداس ہے۔۱ رمئی بروز پیر صبح میری آنکھ جلد کھل گئی حضور کو کھانسی زیادہ آ رہی تھی میں نے ہا تھ لگا کر دیکھا تو ہلکا ہلکا بخار بھی تھا۔میں نے کہا آپ کا گلا خراب ہے۔آج ڈاکٹر کو ضرور دکھائیں۔فرمایا " آپ اپنی تشخیص رہنے دیں اور چپ کر کے " سو جائیں " مجھے نیند نہیں آرہی تھی اور کچھ خط لکھنے والے تھے وہ لکھتی رہی۔پھر صبح ناشتے کا وقت ہوا تو آپ کھانے کی میز پہ ہی ناشتہ کرنے گئے اور معمول کے مطابق ناشتہ کیا۔سب سے باتیں بھی کرتے رہے۔ناشتے کے بعد کمرے میں واپس آئے۔الفضل اور کچھ خطوط دیکھیے۔تھوڑی دیر کے لئے لیٹ گئے ، تھکاوٹ محسوس کر رہے تھے۔میں نے جو خط اپنے بہن بھائیوں کو سکھے ہوئے تھے وہ سنائے۔ان کی صحت