حضرت مرزا ناصر احمد — Page 147
کے لئے اپنے دکھ کو بھلا دیا۔اور جماعت نے بھی اپنے امام سے ایسا پیار کی ہیں کی مثال آج کی دنیا میں تو نہیں ملتی ، ہاں البتہ صحابہ کے زمانہ کی یاد ضرور تازه کر دیتی ہے۔برطانیہ کے ڈاکٹر ماہر امراض قلب DR۔JANKINS نے جو حضور کے علاج کے لئے لندن سے تشریف لائے تھے واپسی پر مرزا فرید احمد صاحب سے فرمایا : " و میں نے اتنے CONCERNED لوگ کبھی نہیں دیکھے۔حب۔میں اُن کو (حضور کو) دیکھ کر لکھتا تھا تو جماعت کے لوگوں کی آنکھوں میں میرے لئے بہت پیار ہوتا تھا۔صرف اس لئے ناکہ میں ان کے امام کا علاج کر رہا ہوں “ ایک مرتبہ جمعہ کی نماز پڑھانے کے بعد حضور جب گھر واپس تشریف لائے تو مجھ سے خطبہ کے متعلق میرے تاثرات پو چھے۔میں نے عرض کیا کہ حضور نے خطبہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کی جو تشریح فرمائی ہے وہ مجھے بہت اچھی لگی ہے۔حضور کے ارشاد کا مفہوم یہ تھا کہ ہر شخص کو خدا تعالیٰ نے مختلف استعدادیں مختلف حد تک دی ہیں۔حضرت رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کو تمام استعدادیں سب انسانوں سے بڑھ کر دی گئیں اور انہوں نے اپنی ان تمام استعدادوں کی نشو نما کو اپنی انتہا تک پہنچایا۔پس اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کا یہی مطلب ہے کہ ہر انسان کو جو روحانی ، جسمانی ، اخلاقی اور طبی استعداد ہیں عطا کی گئی ہیں وہ انہیں اُن کے نقطہ کمال تک پہنچائے۔حضور کی زندگی اور شخصیت پر اگر حضور کے مندرجہ بالا ارشاد کی روشنی