حضرت مرزا ناصر احمد — Page 137
۱۲۹ کہ اُس کے اوپر ڈال دیا۔وہ بالکل اس میں یوں گھر گئی جیسے جال میں پرندہ۔آپ اُٹھ کر اپنے کمرے میں گئے اور میٹھا چڑھے بادام بچوں کے لئے لے کر آئے پھر آپ نے اپنا جبہ اس پر سے اتارتے ہوئے فرمایا " لبس اس سے زیادہ برکت اب میں تمہیں نہیں دے سکتا۔“ اور وہ اس کی حضور کے ے۔“ ساتھ آخری ملاقات تھی۔حضور کو شکار کا بہت شوق تھا اور بچپن سے ہی بچوں میں اس کی رغبت پیدا فظاتے۔ہماری شادی سے دو تین سال پہلے کی بات ہے حضور احمد گر نیں سیر کے لئے گئے ہوئے تھے۔میرے بہنوئی اور بڑی ہمشیرہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ وہاں تھے۔اُن کے بڑے بیٹے فاتح کی عمر اس وقت تقریباً 4 سال تھی۔آپ نے فرمایا کہ اسے ایرگن AIRGUN لے کر دو۔شادی کے بعد آپ نے مجھ سے فرمایا کہ بچہ جب کم از کم تین ہزار چھترا چلائے تو پھر اس کا نشانہ صحیح ہوتا ہے۔آپا کا فون آیا تو میں نے ان سے کہا کہ حضور نے یہ فرمایا ہے اس لئے آپ فاتح کو خوب مشق کرنے دیا کریں۔آپ نے بعد میں مجھ سے فرمایا کہ ہاں تم نے انہیں ٹھیک کہا ہے۔حضور کبھی بائیں ہاتھ میں چیز نہ دیتے تھے۔بچہ ہو یا بڑا جب تک دایاں ہاتھ سامنے نہ کمر سے آپ اُسے چیز نہ پکڑاتے بلکہ اپنا ہاتھ پیچھے کھینے لیتے اور جب وہ دایاں ہاتھ سامنے کرتا تو پھر اُسے پکڑا دیتے۔آپ بہت محتاط طبیعت کے مالک تھے شادی کے پہلے دن ہی آپ مجھے اپنے ساتھ غسل خانے میں لے کر گئے اور سمجھایا کہ بہ گرم پانی کی ٹوٹی ہے اور