حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 124 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 124

IIA مجھے آپ کی یاد بہت آتی ہے۔ایک روز آپ بہت تھکے ہوئے تھے۔آپ رات کو کھانے کے بعد کمرے میں آئے تو ایسے ہی تھوڑی دیر کے لئے بستر پر لیٹ گئے اور لیٹتے ہی آپ پر نیند غالب آگئی۔اور آپ سو گئے۔میں نے دیکھا تو آپ کے پاؤں ٹھیک کر کے آپ کی گرم چادر ٹانگوں پر پھیلا دی۔آپ نے نیند میں ہلکی سی آنکھ کھولی اور پھر سو گئے۔یہ بہت چھوٹی سی بات تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو عجیب قدردان طبیعت عطا فرمائی تھی۔اگلے روز کھانے کی میز پہ آپ بچوں سے کہنے لگے۔رات میں بہت تھک گیا تھا اور مجھے پتہ بھی نہ چلا کہ کب نیند آگئی اور محبت سے میری طرف دیکھتے ہوئے فرمایا ، صرف اتنا پتا چلا کہ کوئی میرے پاؤں ٹھیک کر رہا ہے۔یہ بات کہتے ہوئے آپ کے بیجے میں بے انتہا پیار تھا۔جیسے آپ کو بہت ہی لطف آیا ہو کہ کوئی تھا جو میرا خیال رکھتا۔ایک روز شروع میں مجھ سے پوچھا۔تمہیں امی ابا میں سے کون زیادہ پیار کرتا ہے۔میں نے کہا۔" دونوں ہی کرتے ہیں۔لیکن TYPE میں فرق ہے۔فرمایا۔کیا فرق۔میں نے کہا کہ جب امی ہے؟ THATS WHAT I WANT TO KNOW پیار کرتی ہیں تو وہ SELALESS ہو جاتی ہیں۔لیکن جب ابا جی پیار کرتے ہیں تو وہ اپنے SELF کا بھی خیال رکھتے ہیں۔آپ میرا جواب سن کر خاموش رہے۔آپ کا نیند سے جگانے کا انداز بہت اچھا تھا۔بڑے پیار سے جگاتے اور اکثر یہ مصرع بھی پڑھتے۔ع اُٹھے بس اب کہ لذت خواب سحر گئی ایک روز مجھ سے پوچھا کہ (شادی سے پہلے، تم اپنی دوستوں وغیرہ کے ساتھ