حضرت مرزا ناصر احمد — Page 123
انس احمد سے فرمایا۔میری طرف سے ابھی خط لکھ کر ان کی طبیعت پوچھو۔اور پھر ایک روز شام کو مجھے بھی ان کی طبیعت پوچھنے کے لئے عزیزیم میاں انس احمد کے ساتھ بھیجوایا۔حضور کو CHERRIES ( چیریز ، بہت پسند تھیں۔میرے بڑے بھائی اباد مجب کوسٹر میں تھے تو ان سے حضور سیب اور چیریز منگوایا کرتے تھے اور ان کے بیڈی پنڈی آجانے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا حضور کو یہ پسند نہ تھا کہ جو چیز وہ خود کہہ کر منگوائیں اسے تحفہ قبول کریں۔اس لئے باقاعدہ بل ادا فرماتے۔میری شادی سے قبل میرے بھائی نے حضور کی اس عادت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ میں موسم کا پہلا پھیل تحفہ بھجواتا ہوں اور پھر بل سے لیتا ہوں۔شادی کے بعد جب ہم پہلی بار اسلام آباد گئے تو ایک روز انہوں نے چیر نیز بھجوائیں۔آپ نے کھانے پر شوق سے کھائیں اور مجھ سے کہا ایاز سے بل پوچھ لینا۔میں نے پوچھا کیا یہ اس موسم میں پہلی دفعہ آئی ہیں ؟ فرمایا ! ہاں میں نے کہا پھر وہ بل نہیں لیں گے اور یہ تحفہ ہوگا۔شام کو جب میرے بھائی اور بھاوج ملنے آئے تو آپ نے میری بھاوج سے بل پوچھنے کے لئے کہا۔انہوں نے جواب دیا۔حضور وہ تحفہ ہے۔آپ خاموش رہے اور اصرار نہ فرمایا۔اور پھر اس کے بعد ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی مرتبہ مجھ سے فرمایا۔" آج ہم نے آپ کی بدولت CHERRIES کھائیں یہ میں جانتی تھی کہ بات تو معمولی ہے۔لیکن آپ میرا دل خوش کرنا چاہتے ہیں۔اس لئے محبت سے بار بار ذکر کر رہے ہیں۔اور اب میں جب بھی دنیا میں کہیں بھی CHERRIES کھاؤں