حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 111 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 111

1۔6 آٹھ نو باتیں بتائیں اور پھر یہ بھی فرمایا کہ " اب اس دنیا میں تم ہی میرے لئے سب کچھ ہو ؟ اگلے روز فرمایا میں چاہتا تھا تم یہ بات محسوس کر د لیکن اب اگر میرے منہ سے نکل ہی گیا ہے تومیں تمہیں بتاتا ہوں کہ اب اس دنیا میں دخدا تعالیٰ کے بعد ) تم ہی میرے لئے سب کچھ ہو " آپ ہمیشہ منجز اور انکسار کی راہوں پر چلے۔اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی طرح آپ کی شخصیت میں عاجزی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔لیکن عاجزی اختیار کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ انسان وقار کو ہاتھ سے جانے دے اور آپ انتہائی باوقار شخصیت کے مالک تھے۔چنانچہ آپ مجھ میں بھی یہی دونوں خوبیاں دیکھنا چاہتے تھے۔یعنی عاجزی بھی ہو اور وقار بھی ہو۔آپ نے شادی سے پہلے دو تین روز قبل مجھے ایک رقعہ بھجوایا جس پر مندرجہ ذیل تین نصیحتیں لکھی ہوئی تھیں :- " (1) اللہ تعالٰی عاجزانہ راہوں کو پسند کرتا ہے۔(۲) جو خاک میں ملے اُسے ملتا ہے آشنا۔(۳) میں خاک تھا اسی نے ثریا بنا دیا۔اور پھر شادی کے بعد جب میں نے پہلی مرتبہ آپ سے ملنے کے لئے آئے ہوئے افراد خاندان سے ملنا تھا تو آپ نے مجھے ہال کمرے میں جانے سے پہلے اپنے کمرے میں کھڑے کھڑے یہ نصیحت فرمائی : "دیکھو تکبر نہیں کرنا لیکن وقار سے رہنا " اور پھر ایک مرتبہ اور بھی یہی نصیحت و ہرائی۔گھر کے انتظامی امور کو سنبھالنے کی طرف توجہ دلانے کے لئے اکثر مجھے بہت