حضرت مرزا ناصر احمد — Page 110
میں نے خطوط لکھنے کے لئے رائیٹنگ پیر منگوایا تو اس پر دوستی کے متعلق ایک فقرہ لکھا ہوا تھا۔میں نے انہیں دکھاتے ہوئے کہا۔دیکھیں اس پر بھی دوستی کے متعلق سیکھا ہوا ہے۔آپ نے اس وقت مجھے کچھ نہ کہا۔مجھے دیکھا اور میرے ہاتھ سے پیڈ لیتے ہوئے فلم لیا اور اس پیڈ پر لکھے ہوئے میرے نام سے پہلے حضرت سیدہ لکھ دیا اور پھر پیڈ میری طرف واپس بڑھا دیا۔ایک روز میں نے آپ سے کہا کہ آپ ہمیشہ مجھے دوستی نبھانے کی نصیحت کرتے ہیں لیکن اگر دوست حسد کرنے لگ جائے تو کیا پھر بھی دوستی نبھانی چاہیئے۔فرمایا " پھر تو وہ تمہارا دوست ہی نہ رہا ؟ آپ کا پیار بے پناہ تھا۔اتنا پیار کم ہی کوئی خاوند اپنی بیوی کو دے سکتا ہے کئی بار مجھ سے فرمایا کہ خدا تعالیٰ اس طرح تمہارا پیار میرے دل میں ڈال رہا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی۔سو اس خدائی پیار کے نتیجہ میں آپ نے بے حساب ہی محبت مجھے دی۔لاڈ کے ساتھ ساتھ آپ کو یہ فکر بھی دامنگیر ہوئی کہ کہیں اتنا لاڈ پیار مجھے خراب ہی نہ کر د سے۔چنانچہ ایک روز مجھے کہنے لگے۔" مجھے فکر ہے کہ نہیں تم سر پر ہی نہ چڑھ جاؤ ی" میں اُس وقت خاموش رہی لیکن یہ بات میرے دل کو اچھی نہ لگی۔سو اگلے دن کسی بات پر مجھ کو رنج تھا۔میں رو بھی رہی تھی اور اپنے غصے کا اظہار بھی کرتی جا رہی تھی۔اس دوران میں نے کہا کہ آپ کو تو سارا وقت یہ فکر رہتی ہے کہ میں کہیں سر یہ نہ چڑھ جاؤں۔آپ کے سر نہیں چڑھنا تو اور کس کے سر چڑھوں گی " آپ نے میری بات کا برا نہیں منایا اور بہت لاڈ پیار سے میرار نے دور کر دیا اور پھر کہا۔کہ آؤ بتاؤں کہ تمہاری کن کن باتوں کی وجہ سے مجھے تمہاری قدر ہے۔کوئی