حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 109 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 109

۱۰۵ اُس کے لئے بھی میں تیار ہوں چلو! یہ دیکھ کر بیٹیا سخت شرمندہ ہوا اور اس نے اپنی اصلاح کرلی اور برے دوستوں کی صحبت سے بچ گیا۔دوستی نبھانے کی بہت تاکید کرتے۔عزیزہ فریحہ اپوتی صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب کی تقریب آئین تھی۔گرمی کی شدت اور حضور کی مصروفیت کے باعث انہوں نے حضور سے یہی درخواست کی کہ آئین کے روز وہ بچی کو قصر خلافت میں لے آئیں گئے اور حضور دعا کروا دیں۔مجھے آپا محمودہ بیگم صاحبہ نے دعوتی رقعہ بھجوایا کہ میں ان کے گھر منعقدہ دعوت میں بھی شرکت کروں میں جمعہ کی نمازہ کے لئے ان کے ساتھ بیت الاقصیٰ گئی تو وہاں میری ایک ہم جماعت بھی ملیں اور مجھ سے کہنے لگیں۔کہ آمین پر ضرور آنا (عزیزہ فریحہ کی امی بھی میری ہم جماعت تھیں اور بچپن میں دوستی تھی تا کہ اس بہانے اچھی طرح ملاقات ہو جائے۔میں نے آپ سے بھی اس بات کا ذکر کر دیا۔لیکن اپنی کسی خواہش کا اظہار نہ کیا۔اسی روز یا اگلے روز عزیزم تانی (مرزا عمر احمد ) آئے اور آئین کے متعلق پوچھا کہ کس وقت بچی کو لیکر آئیں۔آپ نے ان سے فرمایا۔یہ آرہی ہیں تو میں نے سوچا ہے میں بھی وہیں آجاتا ہوں گے اور پھر آپ خود بھی آمین پہ میرے ساتھ گئے۔آپ نے میرے اس بات کے دہرانے سے ہی یہ سمجھا کہ میرا منشاء وہاں جانے کا ہے اور پھر میری خاطر خود بھی موسم کی شدت کے باوجود تشریف لے گئے۔ایک روزہ اسلام آباد میں کچھ خواتین ملنے کے لئے آئی ہوئی تھیں۔ملاقات کے لئے اندر تشریف لائے اور بڑی محبت سے مسکراتے ہوئے فرمایا : - " طاہرہ کی سہیلیاں آئی ہوئی ہیں۔"