حضرت مرزا ناصر احمد — Page 10
١٠ کی خدا نے مجھے بشارت دی کہ وہ کسی وقت ضرور پیدا ہو گا۔اور اس کے بارہ میں ایک اور الہام بھی ہوا کہ جو اخبار الحکم اور البدرین مدت ہوئی کہ شائع ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے کہ :- إنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَا مِنَافِلَهُ لَكَ وَنَافِلَةً مِّنْ یعنی ہم ایک اور لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں کہ وہ نافلہ ہو گا۔یعنی لڑکے کا لڑکا۔یہ نافلہ ہماری طرف سے ہے ہے ر حقیقۃ الوحی تا ۲۱) اس موعود بچے کی ولادت کی بشارت اللہ تعالیٰ نے مصلح موعود کو بھی عطا فرمائی چنانچہ ۲۶ ستمبر ۱۹۰۹ ء کے ایک مکتوب میں آپ نے تحریر فرمایا : - او مجھے بھی خدا نے خبردی ہے کہ میں تجھے ایک ایسا لڑکا دوں گا جو دین کا ناصر ہوگا اور اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہوگا۔سوان بشارتوں کے عین مطابق ۱۶ نومبر ۱۹۰۹ ء کو سیدنا حضرت مصلح موعود کے ہاں حضرت سیدہ محمودہ بیگم صاحبہ رام ناصر کے لیٹین سے بیٹا پیدا ہوا جن کا نام مرزا ناصر احمد رکھا گیا۔آپ حضرت مصلح موعود کے فرزند اکبر تھے۔؎ سرا ناصر مرا فرزند اکبر ملا ہے جس کو حق سے تاج وافسر ر کلام محمود