حضرت مرزا ناصر احمد — Page 108
۱۰۴ میں آئی۔آپ نے مجھ سے فرمایا تم ان کے پاس بیٹھو نماز بعد میں پڑھ لینا۔لیکن دوسری طرف یہ حال تھا کہ ایک دو مرتبہ ایسا ہوا کہ صبح کی نماز کے لئے آپ کی آنکھ وقت پر نہ کھل سکی۔قضاء نماز پڑھتے ہوئے جتنا تاسف میں نے آپ کے چہرے پر دیکھا اتنا کبھی کسی اور بات پر نہ دیکھا۔دوستی کو نبھانے کی جتنی بار تاکید آپ نے مجھے فرمائی ، شاید ہی کسی اور بات کی اتنی دفعہ تاکید کی ہو۔آپ مجھ سے فرماتے تھے کہ حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) نے فرمایا ہے کہ دوست سوچ سمجھ کر بناؤ ، لیکن ایک بار جب دوستی کر لو تو پھر اُس تعلق کو ہمیشہ نبھاؤ۔اس ضمن میں آپ ایک بہت دلچسپ کہانی سنایا کرتے تھے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک لڑکا غلط قسم کے مطلب پرست دوستوں میں گھر گیا۔اس کے باپ نے اُسے سمجھانا چاہا۔لیکن وہ نہ سمجھا آخر اُس کے باپ نے کہا کہ آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اصل دوستی کیسی ہوتی ہے۔چنانچہ وہ اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر آدھی رات کو اپنے ایک دوست کے ہاں گیا۔دروازہ کھٹکھٹایا۔دوست نے نام پوچھا اور بغیر دروازہ کھولے کہا کہ میرا انتظار کرو میں آتا ہوں۔کافی دیر گزرگئی دوست نہ آیا۔بیٹے نے اپنے باپ سے کہا کہ دیکھ لی اپنی دوستی۔انتظار کرنے کا کہہ کر بھاگ گیا۔باپ نے کہا کہ صبر کرو۔چنانه چنانچہ کچھ دیر بعد اُس دوست نے دروازہ کھولا تو وہ اس وقت اپنی ذرہ پہنے تیار کھڑا تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک اشرفیوں کی تحصیلی تھی۔وہ کہنے لگا۔مجھے معاف کرتا ذرا دیر ہوگئی۔رات کو اس وقت آنے پر میں نے سوچا کہ یا تو تمہیں مال کی ضرورت ہے سو وہ حاضر ہے۔یا پھر میری جان کی ضرورت ہے