حضرت مرزا ناصر احمد — Page 107
ایک آیت ہی پڑھ لوں۔فرمانے لگے کہ ہاں ایسا ہی ہونا چاہیے۔آپ بظاہر دنیا کے کاموں میں مشغول ہوتے لیکن دل میں ذکر الہی کر رہے ہوتے یا اپنا کوئی مضمون سوچ رہے ہوتے۔ایک دن حضور باتیں فرما رہے تھے ، کچھ دیر کے لئے خاموش ہو گئے۔میں نے تھوڑی دیر بعد کوئی اور بات شروع کر دی۔فرمایا میں ایک مضمون سوچ رہا تھا تم نے بات کر کے ساری توجہ ہٹا دی ، اب اُسے RECOLECT کرنے میں میرے تین منٹ لگے ہیں۔اپنے وقت کا کوئی حصہ بھی ضائع نہ فرماتے۔اور کمرے میں جتنا بھی فارغ وقت ملنا اس میں اپنی ڈاک کا کچھ حصہ ملاحظہ فرما لیتے۔وقت کی پابندی کا انتہائی خیال رہتا۔اگر میں نے بھی کسی کو ملاقات کا وقت دیا ہوتا تو حضور نے بار بار مجھے یاد کروانا کہ فلاں وقت آپ نے ملاقات کا دیا ہوا ہے، وقت پر تیار ہو جاؤ۔عبادت میں دکھاوا نہ تھا۔ایک روز اسلام آباد میں ہم حضور کے ایک غیر از جماعت عزیز کے ہاں گئے ہوئے تھے۔مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا۔کچھ مہمانوں نے نماز کے لئے جگہ پوچھی اور اُٹھ کر نماز کے لئے چلے گئے حضور اپنی جگہ پر تشریف فرمار ہے۔میں بھی نہ اٹھی۔گھر اگر حضور نے نماز ادا فرمائی اور مجھے سے فرمانے لگے نماز اس وقت پڑھنی چاہیئے جب اس کی طرف پوری توجہ ہو۔اسلام آباد میں ایک روز شام کے وقت کچھ رشتہ دار خواتین آئی ہوئی تھیں مغرب کی نماز کا وقت ہوا حضور نے نماز پڑھانے کے لئے نیچے جانا تھا۔آپ تیاری کے لئے اپنے کمرے میں تشریف لائے۔میں آپ کے پیچھے کمرے۔۔