حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 105 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 105

14 رہی تھی تو میں نے کہا۔میں نے بونگی ماری " آپ نے مجھے یہ لفظ کہنے سے منع فرما دیا۔لیکن عجیب فراست اور مجھ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کو متصف فرماتا ہے۔انتہائی ضرورت اور اصلاح کے خیال سے جب مناسب ہو ٹوک بھی دیتے ہیں۔لیکن یہ نہیں کہ ہر وقت اور بلا ضرورت ٹوکتے رہیں۔جب دیکھا کہ دوسرے کو اپنی غلطی کا پہلے ہی احساس ہے تو پھر کبھی نہ جتایا۔ایک روز جب آپ بیمار تھے میرے منہ سے بات کرتے کرتے بے اختیار کسی کے لئے کمبخت کا لفظ نکل گیا۔یہ لفظ منہ سے نکلتے ہی مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور بات میرا کچھ آپ میں بات کرتے کرتے ایک لحظہ کیسے رک گئی۔میرا خیال تھا آپ مجھے کچھ کہیں گے لیکن آپ خاموش مجھے دیکھتے رہے اور کچھ نہ فرمایا۔میں نے اپنی بات پھر جاری رکھی۔زندگی کے ہر پہلو میں آپ صرف اس بات کا خیال رکھتے کہ ہر کام قرآن کریم کے حکموں کے مطابق ہو۔اچھے کھانے کھاتے تو فرماتے ہم اچھی چیزیں اس لئے کھاتے ہیں کہ قرآن شریف میں یہ لکھا ہے کہ دنیا کی بہترین چیز مسلمان کے لئے پیدا کی گئی ہے۔جماعت کو قرآن شریف کے پڑھنے اور پڑھانے اور قرآن کی تعلیم کو ساری دنیا میں پھیلانے کے لئے آپ ساری زندگی جدو جہد فرماتے رہے۔ہر علم اور سر برکت کا منبع قرآن کو ہی جانتا تمام علوم کو قرآن کا ہی تابع جانا۔مجھے بھی ہمیشہ قرآن شریف کی تفسیر سیکھنے کی طرف توجہ دلائی۔ارادہ تھا کہ خود مجھے قرآن شریف کی تفسیر سکھائیں بلکہ اس مقصد کے لئے میرے آنے سے پہلے ہی نوٹس لکھنے کے لئے کا پیاں بھی منگوائی ہوئی تھیں۔چنانچہ حضرت