حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 104 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 104

۱۰۰ ہی تھی۔لیکن یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بیوی کے دل میں خاوند کے لئے بہت محبت پیدا کر دیتی ہیں۔اور آپ ایسی دلجوئی کی باتیں اکثر کرتے۔فرماتے تم بانہ وٹوٹنے کے لحاظ سے مجھ سے دو سال چھوٹی ہو ر آپ کی ۱۵ سال کی عمر میں بازو ٹوٹی تھی اور میری ۱ سال کی عمر میں ، اور عقل کے لحاظ سے چھ ماہ چھوٹی ہو۔آپ کی طبیعت میں سختی ز تھی۔غلط کام سے ہمیشہ نرمی کے ساتھ منع فرماتے۔انسانی فطرت کے عین مطابق تفریح کی بھی اجازت دیتے لیکن لغو وقت ضائع کرنے سے منع فرماتے۔اور اگر تفریح جائز حد سے بڑھنے لگتی تو ٹوک دیتے۔آپ نے مجھے ایک کیلکولیٹر CALCULATOR تحفہ دیا۔(حضور اکثر چھوٹے چھوٹے تھے دیتے رہتے تھے) میں اس میں دیا ہوا میوزک بجاتی رہی۔مجھے خوش دیکھ کہ آپ نے بھی خوشی کا اظہار فرمایا۔لیکن ایک دن پھر یں کافی دیر تک اُسے بجاتی رہی۔آپ غسل خانے سے واپس آئے تو فرمایا کہ لغو وقت ضائع نہیں کرنا۔سکولوں کالجوں میں پڑھتے ہوئے اور ہوسٹلوں میں رہتے ہوئے بعض اوقات ایسے الفاظ زبان میں شامل کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے جو کہ شائستگی کے خلاف ہوتے ہیں۔اگرچہ مجھے خود بھی اس قسم کے الفاظ کو استعمال کرنا پسند نہ تھا۔اور میں ارادہ ان سے اعراض کرتی تھی۔لیکن کچھ الفاظ انجانے میں مجھے بھی کہنے کی عادت پڑ گئی۔آپ کو گفتگو میں ایسے الفاظ کا استعمال پسند نہ تھا۔ایک روز میں نے انہیں اپنا کوئی قصہ سناتے ہوئے کہا کہ میں نے کہا اچھا بچوں۔آپ نے مجھے ٹو کا اور فرمایا۔یہ لفظ استعمال نہیں کرنا۔پھر اسی طرح ایک روزہ پھر میں اپنا کوئی واقعہ سُنا