حضرت مرزا ناصر احمد — Page 47
گیا ہے۔“ ) خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۹۳مه) پھر اس منصوبہ کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے فرمایا : - د یه اتنا زه به دست منصوبہ ہے کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں اور آج پھر کہتا ہوں آپ کے کانوں میں بار بار یہ بات ڈالنا چاہتا ہوں کہ آدم کی پیدائش کے بعد اتنا بڑا منصوبہ کبھی نہیں بنایا گیا۔آدم سے لے کر آج تک اتنی زیر دست جنگ (روحانی جنگ بادی سمجھیا روں سے نہیں شیطانی قوتوں کے خلاف نہیں لڑی گئی جتنی اس زمانہ میں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ہے لڑی جانے والی ہے۔اس عالمگیر منصوبہ کا ماٹو " حمد اور عزم ہے۔اس منصوبہ کا سب سے بڑا مقصد بنی نوع انسان کو خدا تعالیٰ کی معرفت دلاتا ہے۔اس مقصد کے لئے دنیا کے ہر ملک میں مشن ہاؤس اور بیت الحمد ہر اور قائم کرنی ہیں۔دوسرا بڑا مقصد قرآن کریم کی بعثرت اشاعت ہے اور اس کے ساتھ دنیا کی تمام نہ بانوں میں لٹریچر کی فراہمی ہے۔چنانچہ حضور نے فرمایا : - " کم از کم سو زبانوں میں اسلام کی بنیادی تعلیم پرمشتمل کتاب شائع کرتی ہے۔بنی نوع انسان کو امت واحدہ بنانے کے لئے بین الا قوامی سطح پر جماعتوں اور احباب جماعت کا آپس میں اور مرکز سے رابطہ ہونا چاہیئے۔