حضرت مرزا ناصر احمد — Page 170
دی ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے رب کے ساتھ محبت کرتا ہے اور اس کی روح دانستہ یا نادانستہ طور پر اپنے مالک حقیقی کے وصل کی کوشش کرتی ہے۔پھر اپنی استعداد ، ماحول اور تربیت کے مطابق وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرتا ہے۔بنی نوع انسان میں اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے کی سب سے زیادہ فطری استعداد جس ہستی کو لی وہ ہمارے پیارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔آپ کے بعد آپ کے غلام آپ ہی کے رنگ میں رنگین ہو کر اپنی اپنی استعداد کے مطابق اللہ تعالٰی کی محبت کو پاتے ہیں۔اگرچہ ہر انسان کا تعلق اپنے رب سے ایک ذاتی تعلق ہوتا ہے۔اور دوسرے انسان اس کی حقیقت کو نہیں پا سکتے۔لیکن بعض اوقات کبھی کبھی اس تعلق کا کچھ اظہارہ ظاہر میں بھی ہو جاتا ہے۔حضور (حضرت خلیفہ ایسح الثالث) کا اپنے رب کے ساتھ تعلق حقیقت میں اپنے اندر کتنی گہرائی اور وسعت رکھتا تھا۔اس کی تفصیل تو نہ میں جانتی ہوں اور نہ بیان کرنے کی طاقت رکھتی ہوں لیکن آج بھی میرے کانوں میں اپنی تقاریر اور خطبات میں آپ کا بارہا کہا ہوا ایک لفظ شیرینی گھولتا ہے کیسی محبت سے آپ "رب" کا لفظ ادا کیا کرتے تھے۔اور ادائیگی کے اس انداز میں ہی بہت کچھ آجاتا تھا۔آپ کی زندگی کا مقصد ، اور آپ کے دل کی تڑپ صرف یہی تھی کہ دنیا میں " توحید خالص" کا قیام ہو۔اور ساری دنیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے۔سو اپنے رب کے حضور ہی التجا کرتے ہیں :۔ا سے ہمارے اللہ ! ہمار سے پیار سے رب ! تو ایسا کر کہ تیر سے یہ کمزور اور بے مایہ بندے تیرے لئے بنی نوع کے دل جیت لیں اور