حضرت مرزا ناصر احمد — Page 157
۱۴۹ پوری طرح سے کھا نہ سکتے تھے۔جوس میں سے حضور کو سیب ، سنگترہ اور گریپ فروٹ کے جوس پسند تھے لیکن ان دنوں سنگترہ کے جوس سے گلے میں خراش محسوس کی اس لئے زیادہ سیب کا جوس ہی استعمال فرماتے رہے۔شروع میں تو بدلے ہوئے معمول کے مطابق آپ کو کھانا پسند نہ آتا تھا لیکن آخری رات کا کھانا آپ نے بہت پسند فرمایا۔اس رات کھانے میں مچھلی BEARIS اہلی ہوئی مکئی کے دانے اور ترکاری ، سوپ کے علاوہ تھے۔حضور کھانے کی ظاہری شکل میں بھی خوبصورتی کو پسند فرماتے تھے۔چنانچہ اس رات جب کرے میں کھانے کی ٹرائی آئی تو آپ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر فرمایا " ٹھہرو پہلے مجھے اسے ENJOY کرنے دو فرمایا آج تم بھی میرے ساتھ کھانا کھاؤ اور وہ حضور کا آخری کھانا تھا جو ہم نے اکٹھے کھایا۔ورنہ جب سے آپ بیمار ہوئے تھے میں پہلے آپ کو کھانا کھلاتی اور بعد میں خود کھاتی۔پھلوں میں سے چیری کھانے کی ڈاکٹروں نے اجازت دی تھی۔چنانچہ آخری روز دونوں کھانوں پر حضور نے چیزی بھی کھائی۔اس کے علاوہ بھاپ میں دم دے کر نرم کیا ہو اسیب بھی دوران علالت استعمال فرماتے رہے۔کمزوری اتنی زیادہ تھی کہ تھوڑا سا کھانا کھانے سے ہی سخت تھکاوٹ ہو جاتی تھی۔اور آپ فرماتے کہ بس مجھے واپس لٹا دو۔لیکن بیماری کے دوران شدید کمزوری کے باوجود آپ اپنے ہاتھ سے ہی کھانا کھانا پسند فرماتے۔بعض دفعہ آپ کا نقاہت سے ہاتھ کانپ رہا ہوتا تھا۔ربوہ میں حضور دہی کا استعمال باقاعدگی سے دونوں کھانوں پر کیا کرتے تھے۔