حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 143 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 143

۱۳۵ کہ آپ جو فائل دیکھ چکے ہوتے اسے اس کے لفافے میں ڈالتی جاتی اور نئی فائی نکال کر آپ کے لئے تیار رکھتی۔آپ بھی اپنا کام کر تے رہتے اور میری دلچسپی کا سامان بھی رہتا۔ایک روز آپ ڈاک دیکھ رہے تھے کیسی بچی کا نام رکھنے کی درخواست تھی۔مجھ سے فرمایا۔اس کا نام تم تجویز کردو۔میں نے "قانتہ" کہا آپ نے وہی تحریر کہہ دیا۔ایک روزہ ڈاک دیکھتے ہوئے ایک بچی کا نام آپ نے لکھا۔غالباً " فاخرہ تھا میں نے غور سے پوری عبارت پڑھی تو پیدا ہونے والی بچی کی بڑی بہن کا بھی وہی نام لکھا ہوا تھا۔میں نے کہا آپ نے اس کی بہن کا نام ہی دوبارہ رکھ دیا۔پھر آپ نے وہ نام تبدیل کر دیا۔اپنا کام پورے انہماک سے کرتے اور کام کے دوران مجھے بات کرنے سے منع کیا ہوا تھا۔کئی مرتبہ مجھ سے فرمایا۔جب میں کام کر رہا ہوتا ہوں تو تم مجھے بالکل یاد نہیں آئیں۔میں یہ بات سُن کر کچھ نہ کہتی۔ایک روزہ مجھ سے یہی بات کہ کہ فرمایا۔لیکن جب کلرک میرے سامنے سے ایک فائل اُٹھا کر دوسری فائل رکھتا ہے تو اس دوران جود قفہ ہوتا ہے اس میں میں تمہیں یاد کر لیتا ہوں۔جامعہ کے دو طالبعلموں نے (غالباً غیر ملکی تھے اور تعلیم مکمل کر نے کے بعد واپس جا رہے تھے ، اپنے دو جائے نماز حضور کو بغرض دعا دیئے۔آپ انہیں کرے میں لائے اور مجھ سے فرمایا کہ انہیں بجھا دینا ( تا کہ ان پر نما نہ ادا کر سکیں، اور فرمایا تم بھی ان پر دو نفل پڑھے کہ دعا کہ دینا حضور کا تجھے دُعا کے لئے کہنا عجیب لگا۔لیکن میں خاموش رہی اور ان کی بات پر عمل کیا۔آپ نے ان دونوں جاء نما نہ دوں