حضرت مرزا ناصر احمد — Page 129
١٢٣ فرمائی کہ دیکھو رشک جتنا مرضی کر لیا لیکن حسد کبھی نہ کرنا۔زندہ انسانوں اور زندہ قوموں کا کبھی بھی یہ وطیرہ نہیں ہوا کہ وہ صرف اپنے ماضی کو یاد کر کے خوش ہوتے رہیں اور مستقبل کی فکر نہ کریں۔بلکہ زندہ تو میں ہمیشہ اپنی نظر مستقبل پر رکھتی ہیں اور ان کا ہر قدم پچھلے قدم سے آگے ہی ہوتا ہے۔اسی اصول کو مجھے ذہن نشین کروانے کے لئے ایک مرتبہ جب میں اپنے ہوسٹل کی رہائش کے زمانے کی ایک بات بتا رہی تھی تو آپ نے فرمایا کہ میں تو تب مانوں گا جب آئندہ تم ایسا کر کے دکھاؤ گی۔اسی طرح آخری علالت میں ، میں نے ایک چیز کا نام انگریزی میں لیا۔آپ فرمانے لگے ہیں تو اُس وقت IMPRESS ہوں گا جب تم مجھے یہ بتاؤ گی کہ ITALIAN نہ بان میں اس کو کیا کہتے ہیں۔حضور کی طبیعت میں مہمان نوازی حد درجہ تھی شدید علالت میں بھی جب ہر کسی کی توجہ صرف آپ کی ہی ذات پر مرکوز تھی۔آپ کو اپنے مہمانوں کی خاطر داری کا شدت سے احساس تھا۔بار بار دریافت فرماتے کہ میرے مہمانوں کو کھانا ٹھیک مل رہا ہے ؟ یا یہ کہ میرے مہمانوں کا خیال رکھو۔" مہمانوں کے آنے سے گھر میں بہت برکت ہوتی ہے ، کئی بار مجھے کمرے سے باہر بھجواتے کہ دیکھو میرے مہمان کیا کر رہے ہیں۔انہوں نے کھانا کھالیا ہے۔“ حضور کو بدظنی سے سخت نفرت تھی اور معمولی سے معمولی بات پر بھی بدظنی کرنے کو پسند نہ فرماتے۔فرماتے یہ جو لفظ ہوگا " ہے یہ تم لوگوں کو