حضرت مرزا بشیر احمد ؓ

by Other Authors

Page 5 of 30

حضرت مرزا بشیر احمد ؓ — Page 5

کر کہتے ”با پٹی ( چٹی شکر کو کہ رہے ہیں۔کیونکہ بولنا پورا نہ آتا تھا اور مراد یہ تھی کہ سفید رنگ کی شکر لینی ہے ) حضرت صاحب تصنیف میں بھی مصروف ہوتے تو کام چھوڑ کر فوراً اٹھتے کوٹھڑی میں جاتے شکر نکال کر ان کو دیتے اور پھر تصنیف میں مصروف ہو جاتے۔تھوڑی دیر میں میاں صاحب موصوف پھر دست سوال دراز کرتے ہوئے پہنچ جاتے اور کہتے ”ابا چٹی حضرت صاحب پھر اٹھ کر ان کا سوال پورا کر دیتے۔غرض اس طرح ان دنوں میں باوجود کئی کئی دفعہ یہ ہیرا پھیری ( یعنی آنا جانا ) ہوتی رہتی تھی مگر حضرت صاحب باوجود تصنیف میں سخت مصروف ہونے کے کچھ نہ فرماتے بلکہ ہر دفعہ ان کے کام کیلئے اٹھتے تھے۔یہ 1895 ء یا اس کے قریب کا ذکر ہے۔(جبکہ آپ کی عمر قریباً3 سال تھی “ خطبہ الہامیہ کا نظارہ (سیرۃ المہدی حصہ سوم صفحہ 305) اپریل 1900 ء میں جب عید الاضحی کے موقع پر حضرت مسیح موعود نے خطبہ الہامیہ پڑھا تو اس وقت آپ کی عمر صرف سات سال تھی مگر آپ فرمایا کرتے تھے : مجھے وہ نظارہ خوب یاد ہے۔حضرت صاحب بڑی مسجد کے پرانے حصہ کے درمیانی در کے پاس صحن کی طرف منہ کئے ہوئے تھے اور اس وقت آپ کے چہرہ پر ایک خاص رونق اور چمک تھی اور آپ کی آواز میں ایک خاص درد اور رعب تھا اور آپ کی آنکھیں قریباً بند تھیں۔“ 66 5 (سیرۃ المہدی جلد اول صفحہ 164)