حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 13 of 16

حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓ — Page 13

22 22 21 کٹہرے میں ایک دو منٹ کھڑے رہتے۔پھر کرسی پر آ کر بیٹھتے۔لوگ بھی آپ کے تھے آپ سے ٹکرا گئے۔اور سارا سالن کپڑوں پر گر گیا۔آپ نے ناراض ہونے کی احترام میں کھڑے رہتے۔کسی نے دریافت کیا کہ کیا معاملہ ہے؟ آپ نے جواب دیا بجائے صرف اتنا کہا کہ حافظ صاحب اگر سڑک پر جارہے ہو تو زور سے السلام علیکم کہ اس عدالت میں آ تمارام مجسٹریٹ نے آقا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کھڑا رکھا کہتے رہا کرو تا کہ لوگوں کو آپ کی آمد کا علم ہو جائے۔تھا۔میں اس یاد میں کچھ دیر کھڑارہتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کے بارے میں کئی الہامات اور رویا آپ کے مزاج میں مانگی تھی۔اور عمدہ مزاح کا ذوق رکھتے تھے۔ایک دفعہ ہوئے۔بچپن میں ایک دفعہ آپ بہت بیمار ہو گئے۔حضور نے دعا کی تو الہام ایک ہندو کی دکان کے پاس سے گزرے جس نے میلے کچیلے کپڑے پہن رکھے ہوا۔سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبِّ رَّحِيمٍ۔یہی الہام آپ کی صحت کا موجب ہوا۔تھے۔دکان کے بورڈ پر تحریر تھا۔سیٹھ لال جی داس"۔آپ نے اپنے ساتھیوں سے آپ کی شادی بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک رؤیا کے نتیجہ میں پوچھا کہ اس بورڈ میں کیا غلطی ہے کوئی نہ بتا سکا تو آپ نے فرمایا کہ دو نکتوں کی کمی ہے ہوئی۔حضور نے دیکھا لیکن آپ کی شادی حضرت پیر منظور محمد صاحب ( مؤلف دراصل اس بورڈ کو ہونا چاہیے۔سیٹھ لال چی داس۔“ قائدہ میسر نا القرآن ) کی صاحبزادی صالحہ بیگم صاحبہ کے ساتھ ہو رہی ہے۔ابھی ہفتہ میں چھٹی والے دن طلباء کو قتلے کی نہر پر پکنک کیلئے لے جاتے۔آپ کی آپ دونوں چھوٹے ہی تھے کہ اس رویا کی بناء پر آپ کا نکاح ان سے کر دیا یہ پانکس قادیان بھر میں مشہور تھیں اور بہت سے لوگ ساتھ چل پڑتے۔نمبر پر پہنچ کر گیا۔آپ کی شادی کے موقع پر حضرت مصلح موعود نے ایک نظم بھی تحریر فرمائی جس تیرا کی کے مقابلے ہوتے۔دوسری کھیلیں ہوتیں۔نمازیں باجماعت پڑھائی جاتیں کے چند اشعار درج ذیل ہیں۔اور علمی بحثیں چھیڑی جاتیں۔غرض یہ کہ ذہنی اور جسمانی دونوں طرح سے یہ پلنکس تربیت کے بہترین مواقع تھے۔ایک دفعہ جمعہ پر جانے کے لئے دھوبی کے دھلے ہوئے کپڑے زیب تن کر کے جارہے تھے کہ ایک نابینا صاحب جو ہاتھ میں سالن کا ڈبہ پکڑے ہوئے آرہے میاں اسحاق کی شادی ہوئی ہے آج اے لوگو ہر اک منہ سے یہی آواز آتی ہے مبارک ہو دعا کرتا ہوں میں بھی ہاتھ اٹھا کر حق تعالیٰ سے کہ اپنی خاص رحمت سے وہ اس شادی میں برکت دے