حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 12 of 16

حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓ — Page 12

20 19 کھانا کھانے لگے تھے۔میر صاحب قادیان سے طلباء کو لے کر روانہ ہوئے تو مخالفین نے راستے میں ایک پل آپ عظیم الشان مقرر تھے۔آپ کی تقریر بہت علمی اور منطقی ہوتی اور مخالف پر روکنے کی کوشش کی۔حضرت میر صاحب نے طلباء سے کہا کہ ان کو جواب دیئے بغیر مشکل میں گرفتار ہو جاتا۔آپ موقع کی مناسبت سے نہایت اعلیٰ بات کیا کرتے تھے۔چار چار کی ٹولیوں میں چپ چاپ بڑھتے جاؤ۔جب بھا میری پہنچے اور جلسہ شروع ہوا ایک مناظرے میں ہندو مقرر نے اپنی تقریر ہندی اور سنسکرت زبان میں کی جس سے تو مخالفین نے شور ڈالنا شروع کر دیا۔خیر جلسہ کے اختتام پر جب واپسی ہونے لگی تو کوئی احمدی واقف نہیں تھا۔دوست بیان کرتے کہ ہم پریشان تھے کہ اس کا کیا جواب ایک حویلی سے مخالفین نے پتھر مارنے شروع کر دیئے۔طلباء جوش میں آگئے لیکن دیں گے۔لیکن میر صاحب اطمینان سے بیٹھے رہے۔جب میر صاحب کی باری آئی میر صاحب نے ایک لکیر کھینچ کر طلباء سے کہا کہ اس سے آگے نہیں بڑھنا۔اس دوران تو آپ نے عربی میں تقریر شروع کر دی۔مخالفین نے اعتراض کیا کہ ہمیں تو سمجھ نہیں پتھر پڑتے رہے اور میر صاحب کھڑے رہے۔بالآخر آہستگی سے واپس ہونا شروع آ رہی آپ نے فرمایا کہ ہمیں بھی نہیں آئی تھی۔چنانچہ وہ اس بات پر آمادہ ہوگئے کہ تقریر ہوئے تو ایک گروہ پر جو غلط راستہ پر چل پڑا تھا مخالفین نے حملہ کر دیا۔انہیں اکٹھا کر کے پھر چلے تو کھیتوں میں سینکڑوں سکھوں اور ہندؤوں نے جو کلہاڑیوں اور اردو میں ہوگی۔ابھی میر صاحب کی عمر 28 سال تھی کہ ہندوستان کے ایک مشہور پادری لاٹھیوں سے مسلح تھے دھمکیاں دینی شروع کر دیں۔مگر حضرت میر صاحب سامنے جوا الا سنگھ سے جو اپنی تقاریر کی وجہ سے بہت مشہور تھا مناظر و قرار پایا اور خدا تعالیٰ نے کھڑے رہے۔اور خدا تعالیٰ کی حفاظت میں بخیریت قادیان پہنچے۔قادیان پہنچ کر میر صاحب کو عظیم الشان فتح عطا فرمائی۔جلسوں اور مناظروں میں طلباء کو ساتھ لے میر صاحب نے طلباء کے حوصلہ کی بہت تعریف کی۔جاتے تاکہ ان کی تربیت ہوتی رہے اور بہت حوصلہ افزائی فرماتے۔جس کے نتیجے میں آپ کے شاگردوں میں بہت اعلیٰ درجے کے مقرر پیدا ہوئے۔دلچسپ بات یہ ہوئی کہ مخالفین نے احمدیوں پر ایک مقدمہ کھڑا کر دیا کہ انہوں نے فساد کی کوشش کی تھی۔چنانچہ وہ مقدمہ ضلع گورداسپور کی عدالت میں تھا اور اسی طرح کے ایک جلسہ میں جو قادیان سے متصل گاؤں بھامبری میں ہوا، میر صاحب کا نام بھی اس میں درج تھا۔میر صاحب کو ہر پیشی پر گورداسپور جانا ہوتا فساد ہو گیا۔ہوا یوں کہ جلسہ میں مخالفین نے گڑبڑ کرنے کی سوچی۔جب حضرت تھا۔آپ کو عدالت میں کرسی پیش کی جاتی لیکن جب آپ جاتے تو مجرموں کے