حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 18
33 32 گرامی کندہ شدہ ہے۔ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک مجلس میں موجود احباب پھر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرۃ المہدی میں جو روایات جمع کی ہیں سے گفتگو فرما رہے تھے۔اس مجلس میں مولوی عبد اللہ سنوری صاحب بھی موجود تھے۔جو تاریخ احمدیت کی تدوین میں بھی نہایت ممد و معاون ثابت ہوئیں، ان روایات کی جب مولوی صاحب بولتے تو حضرت صاحب دوسروں کی طرف سے توجہ ہٹا کر ان کی ایک بڑی تعداد حضرت میاں عبداللہ سنوری صاحب سے مروی ہے۔حضرت مرزا طرف توجہ فرماتے تھے۔محترم سید فضل شاہ صاحب کو اس کا ملال ہوا اور اُنہوں نے بشیر احمد صاحب نے خود لکھا ہے کہ انہوں نے طریق روایت میں آپ کو خاص طور پر حضرت میاں عبداللہ سنوری صاحب کے ساتھ حضور کے اِس سلوک پر رشک کیا۔حضور محتاط پایا ہے۔آپ کی بیان فرمودہ یہ روایات بلاشبہ ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔آپ کے خیال کو فوراً سمجھ گئے اور سید فضل شاہ صاحب کو مخاطب ہو کر فرمانے لگے۔شاہ صاحب آپ جانتے ہیں یہ کون ہیں؟ انہوں نے عرض کیا ہاں حضرت سیرت المہدی حصہ اول مطبوعه ۲۱ / دسمبر ۱۹۲۳ ء صفحه ب) انہیں بیان کرتے ہوئے آپ کی جو کیفیت ہو جاتی تھی حضرت مرزا بشیر احمد میں میاں عبداللہ صاحب کو جانتا ہوں۔آپ نے فرمایا: صاحب نے اس کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے۔”میاں عبداللہ صاحب مرحوم سابقون اوّلون میں سے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ان کو ایک غیر معمولی عشق تھا۔میرے ساتھ جب وہ حضرت صاحب کا ذکر فرماتے تھے تو اکثر ان کی آنکھیں ڈبڈبا آتی تھیں اور بعض اوقات ایسی رقت طاری ہو جاتی تھی کہ وہ بات نہیں کر سکتے تھے۔“ ”ہمارا یہ مذہب ہے کہ قدیمان خود را بیفزائے قدر (یعنی پرانوں کی قدر وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے ) یہ آپ سے 66 بھی قدیم ہیں۔“ سید فضل شاہ صاحب کہتے تھے کہ اس دن سے میں نے سمجھ لیا کہ ہمارا ان سے مقابلہ نہیں یہ ہم سے آگے ہیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ جس وقت سید فضل شاہ صاحب نے یہ روایت بیان کی اُس وقت حضرت میاں (سیرت المہدی حصہ دوم صفحه ۱۰۸) عبداللہ سنوری صاحب بھی پاس بیٹھے تھے اور اُن کی آنکھیں پر نم تھیں۔(سیرت المہدی حصہ اوّل صفحه ۵۴، ۵۵ روایت نمبر ۸۵) حضور علیہ السلام کو مولوی صاحب کے حالات و واقعات سے اس قدر دلچسپی خادم سے آقا کی بے مثال محبت خادم تو اپنے آقا کی محبت سے سرشار تھا ہی اُس کا پیارا آقا بھی اپنے تھی کہ آپ کو اکثر اپنی دعاؤں میں یادر کھتے اور جب کبھی حضرت میاں عبد اللہ سنوری خادم سے بے انتہا پیار ومحبت کرتا تھا۔متعدد مواقع پر مختلف طریقوں سے جس کا صاحب اپنی کسی مشکل یا ضرورت کی اطلاع حضور کی خدمت میں کرتے تو حضور ضرور ان کے لیے دعا کرتے۔آپ کے نام ایک خط میں تحریر فرماتے ہیں تمہارے لئے کئی اظہار ہوتا رہتا تھا۔