حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 17
31 30 علامت اخلاص اور دلی محبت کیا ہوگی کہ آپ نے اپنے گھر کے لوگوں کے زیور کو بھیج دیا اور نیز آپ کے گھر کے لوگوں کی محبت اور اخلاص قابل تعریف ہے کہ زیور جو عورتوں کو بالطبع عزیز ہوتا ہے اس کے دینے سے دریغ نہیں کیا۔معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ آپ کو اس سلسلہ کی خدمت کے لئے دل میں جوش آ رہا ہے اور بباعث کثرت مصارف اور قلت آمدن روپیہ میسر نہ ہو سکا۔اسی صورت میں دل کی بیتابی نے یہی ہدایت دی کہ آپ اپنی عزیز زوجہ کا زیور اتار کر بھیج دیں۔سوخدا تعالیٰ آپ کو اس اخلاص کی بہت بہت جزائے خیر دے اور آپ کی زوجہ کو علاوہ ثواب آخرت کے دنیا میں بہت سے زیور طلائی عنایت کرے کہ دہ (دس ) دنیا اور ستر آخرت تو ایک وعدہ ہے۔آمین ثم آمین۔۔۔۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان کرتے۔اس طرح آپ کی کوشش سے بلا مبالغہ لاکھوں انسانوں نے یہ گر تہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔حضرت منشی عبداللہ سنوری صاحب نے جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سنور اپنے گھر تشریف لے جانے کی درخواست کی تھی جسے حضور نے منظور فرما لیا تھا اُسی طرح آپ نے خلیفہ اسیح الثانی حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں بھی یہی درخواست کی جسے حضور نے از راہ شفقت منظور فرما لیا۔حضرت منشی صاحب آپ کو سنور لے جا کر دلی محبت وعقیدت سے اسی حصہ مکان میں اسی طرح خدمت بجالائے۔خلافتِ ثانیہ کے دور ہی میں ۱۹۱۶ء میں آپ کو سلسلہ کی ایک اور خدمت کی توفیق اس طرح حاصل ہوئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سرخ روشنائی والے واقعہ کے متعلق مولوی ثناء اللہ امرتسری کے اعتراض کرنے پر آپ اُس سے مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہو گئے اور ۲۷ نومبر ۱۹۱۶ء کو اس کے گھر تک جا پہنچے۔لیکن مولوی ثناء اللہ کو جرات نہ ہوئی کہ اس مقابلہ میں سامنے آتا۔اس پر اتمام حجت کر کے آپ قادیان واپس آئے۔چنانچہ اگر چہ وہ کرتہ ہمارے سامنے موجود نہیں لیکن آپ مکتوبات احمدیہ جلد نمبر پنجم صفحه ۱۹۵،۱۹۴ مکتوب نمبر ۱۴۲/۷) کے حلفیہ بیان اور دعوت مباہلہ کے بعد اب کوئی شخص اس بیان کو جھٹلا نہیں سکتا۔حضرت منشی عبد اللہ سنوری صاحب جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ منشی عبد اللہ سنوری صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بے پناہ عشق تھا۔آپ کی وفات کے بعد آپ کی جماعت اور آپ کے جانشینوں و السلام کی زندگی میں اپنے اموال سلسلہ کی ضروریات کے لئے پیش فرمایا کرتے کے ساتھ بھی اُلفت و محبت کا یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا۔دیگر کاموں کے علاوہ ہر اسی طرح آپ کے وصال کے بعد بھی مختلف مالی تحریکات میں پیش پیش سال جلسہ سالانہ میں آپ ضرور شمولیت فرماتے۔اور اس موقع پر آپ حضرت مسیح ہے۔چنانچہ منارة اسبح قادیان کی تعمیر میں آپ نے مالی طور پر شمولیت کی توفیق موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا سُرخ روشنائی والا اعجازی گر نہ افراد جماعت کو دکھایا ہائی اور اس مینار کے دروازہ کے بالکل اوپر نصب سنگ مرمر کی تختی پر آپ کا اسم