حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 13
23 22 چکے ہیں کیونکہ آپ کے دل و دماغ بلکہ سارے جسم میں وہی محبوب آقا سمایا ہوا تھا۔پاؤں دبانے بیٹھے تو آپ نے شیخ حامد علی صاحب سے کہا کہ کوئی حقہ اچھی طرح تازہ محبوب کی یاد آپ کو ہر فکر و پریشانی سے دُور رکھتی تھی۔یہی وجہ تھی کہ آپ مجلسوں میں کر کے لاؤ۔جب شیخ حامد علی صاحب حقہ لے آئے تو حضور نے حضرت عبداللہ بیٹھنے اور بہت باتیں کرنے کے عادی نہ تھے بلکہ عموماً خلوت پسند اور کم گو تھے۔آپ سنوری صاحب سے فرمایا کہ پیو۔وہ شرمائے مگر حضور فرمانے لگے جب تم پیتے ہو تو شرم ہمیشہ خوش رہتے۔جب کبھی کسی سے ملتے تو ہمیشہ مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ ملا کی کیا بات ہے؟ پیو کوئی حرج نہیں۔حضرت میاں عبد اللہ سنوری صاحب نے بڑی کرتے۔آپ کی اپنے آقا اور ایمان سے محبت کا آپ کے ماحول میں لوگوں کو بھی مشکل سے رُک رُک کر ایک گھونٹ پیا۔پھر حضور فرمانے لگے میاں عبداللہ مجھے اس بخوبی علم تھا۔اسی بناء پر کوئی شخص آپ کے سامنے ایسی بات نہ کر سکتا تھا جو کسی پہلو سے سے طبعی نفرت ہے۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ حضور کے یہ فرمانے کے ساتھ ہی میرے دل میں اس کی نفرت پیدا ہوگئی اور میں نے اسی وقت سے حقہ نوشی ترک کر دی۔اعتراض کا رنگ رکھتی ہو۔یوں بھی آپ کسی کی غیبت سننا گوارا نہیں کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک روز ( بیت ) میں اکیلے ٹہل رہے تھے۔حضرت میاں عبد اللہ سنوری صاحب (بیت) کے ایک کونے میں قرآن کریم (سیرۃ المہدی حصہ اول صفحه ۴ ۸ روایت نمبر ۱۱۰) نماز میں وہ ہمیشہ صف اول میں آنے کے عادی تھے۔حضرت شیخ یعقوب پڑھنے بیٹھ گئے۔حضور نے ٹہلتے ٹہلتے ایک دفعہ ٹھہر کر حضرت عبد اللہ سنوری کی طرف علی صاحب عرفانی تحریر فرماتے ہیں کہ بہت کم ایسا اتفاق ہوا ہو گا کہ وہ اس سے قاصر رہے ہوں۔( روزنامه الفضل ۲۱ اکتو بر ۶۲۷) ہوشیار پور سے واپسی کا واقعہ ہے۔حضرت منشی عبداللہ صاحب فرماتے ہیں دیکھا اور اُنہوں نے بھی اُسی وقت حضور کی طرف دیکھا۔وہ کہتے ہیں کہ جب میری اور حضور کی نظر ملی تو خبر نہیں اُس وقت حضور کی نظر میں کیا تھا کہ میرا دل میرے سینے کے اندر پکھل گیا اور میں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھالئے اور بڑی دیر تک دعا کرتا رہا۔حضور ٹہلتے رہے۔پھر آخر حضور نے مجھ سے فرمایا میاں عبد اللہ دعا بہت ہو چکی اب بند کرو۔کہ ایک دفعہ میں نے عرض کیا کہ حضور بیعت تو لیتے نہیں اور میں چاہتا ہوں کہ حضور حضرت عبداللہ سنوری صاحب کہتے ہیں کہ اُس دن مجھے سمجھ آئی کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ سے میرا خاص تعلق ہو جاوے تو حضور مجھ کو اپنا شاگرد ہی بنا لیں اور قرآن شریف پڑھایا کریں۔فرمایا بہت اچھا۔یہ رمضان شریف کا ذکر ہے۔پھر عید کے دن مجھے فرمایا کہ آج مبارک دن ہے آج قرآن شریف شروع کر لو۔نیز یہ بھی فرمایا کہ ایک ابتداء میں حضرت عبداللہ سنوری صاحب کو حقہ نوشی کی بہت عادت تھی۔اب آنے کے بتاشے لے آؤ تا کہ باقاعدہ شاگرد بن جاؤ۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔بتاشے ذرا غور کیجئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے شیخ حامد علی صاحب نے یہ ذکر تقسیم کر کے قرآن کریم شروع کروایا۔پھر حضور ایک ہفتہ کے بعد ایک آیت کے کر دیا تو اگلی صبح جب میاں عبد اللہ سنوری صاحب حضور کے پاس گئے اور آپ کے سادہ معنی اور کبھی کسی آیت کی تھوڑی سی تفسیر پڑھا دیا کرتے تھے۔اس سادہ ترجمہ کی بعض وقت کامل کی ایک نظر انسان کو کیا سے کیا بنادیتی ہے۔اس کا کیا مطلب ہے۔(سیرۃ المہدی حصہ اول صفحه ۸۴ روایت نمبر ۱۰۹)