حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحب ؓ — Page 12
21 20 بیعت تھوڑا سا فاصلہ تھا مغرب کی طرف سے چڑھے اور نصف النہار تک پہنچتے ہیں۔سو جب حضور نے اس خواب کی یہ تعبیر کی تو اس میں اکابر دین جن سے فائدہ دین کا پہنچے“ کے الفاظ سے میں اسی وقت یہ بات سمجھا کہ ایک آفتاب تو خود حضور ہیں اور دوسرے آفتاب کے لئے منتظر تھا۔جب حضور نے ہوشیار پور سے پسر موعود کا اشتہار دیا تو اُس وقت مجھ کو بہت خوشی ہوئی اور مجھے یقین ہو گیا کہ دوسرا آفتاب یہی ہے۔اور اس کو میں بخوبی دیکھوں گا۔سو الحمد للہ کہ میں نے یہ دوسرا آفتاب بھی دیکھ لیا جو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ ثانی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں (مکتوبات احمد یہ جلد پنجم ۵، حاشیه صفحه۱۵۰) یوں تو پہلی ملاقات میں ہی حضرت عبداللہ سنوری صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حلقہ ارادت و بیعت میں دل و جان سے داخل ہو چکے تھے اور بیعت کے لئے مامور فرماوے۔چنانچہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خدا تعالیٰ کے حکم سے ۱۸۸۹ء میں سلسلہ بیعت شروع کرنے کا اعلان فرمایا تو منشی عبد اللہ سنوری صاحب کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لدھیانہ میں مقیم تھے۔اور پہلی بیعت لدھیانہ کے محلہ جدید میں واقع حضرت صوفی احمد جان صاحب کے مکان پر ہوئی۔۲۳ مارچ۱۸۸۹ء کو حضرت اقدس بیعت لینے کے لئے مکان کی ایک کچی کوٹھڑی میں (جو بعد میں دارالبیعت کے نام سے موسوم ہوئی ) تشریف فرما ہوئے اور دروازے پر حافظ حامد علی صاحب کو مقرر کر دیا اور انہیں ہدایت دی کہ جسے میں کہتا جاؤں اُسے کمرہ میں بلاتے جاؤ۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مجلس میں بیعت نہ لیتے تھے بلکہ ایک ایک شخص کو الگ الگ بلا کر بیعت لیا کرتے تھے۔پہلی بیعت جب شروع ہوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے چوتھے نمبر پر حضرت منشی عبداللہ سنوری صاحب کو نام لے کر خود بلایا۔(سیرت المہدی صفحه ۶۳ روایت نمبر ۹۶) اُس وقت جب حضور نے ابھی سلسلہ بیعت شروع نہیں فرمایا تھا حضور سے اپنی بیعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق لینے کی درخواست بھی کی لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور کو ایسا کوئی حکم نہ تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت میں مولوی عبد اللہ سنوری حضور کو طبعا یہ بالکل پسند نہ تھا اس لئے آپ بیعت کی خواہش رکھنے والے کو انکار فرما صاحب ایسے سرشار ہو چکے تھے کہ ہر دوسرا دن آپ کی محبت اور اخلاص کو بڑھاتا چلا جاتا اور آپ کا اخلاص اور ایمان بھی روز بروز ترقی کی منازل طے کرتا چلا جاتا۔آپ کو لیکن منشی عبد اللہ سنوری صاحب اُس روز کے منتظر تھے جب اللہ تعالیٰ حضور کو قریب سے دیکھنے والے یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہو جاتے کہ آپ تو اپنے آقا ہی کے ہو دیا کرتے تھے۔