حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 91
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل مَثَلُ الَّذِيْنَ حُمِلُو التَّوْارَةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا۔ترجمہ: ”جن لوگوں پر تورات کی اطاعت واجب کی گئی ہے مگر باوجود اس کے انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا 91 یہاں پر حمل کے لفظ کے استعمال سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے تو رات کی تبلیغ اور تائید چھوڑ دی تھی چنانچہ مفردات امام راغب زیر آیت لکھتے ہیں: كُلِّفُوا أَنْ يَقُومُوا بِحَقِّهَا فَلَمْ يَحْمِلُوهَا۔یعنی یہودیوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ تو رات کے واجبات کو ادا کریں اس کی ظاہری اور باطنی طور پر تائید و حفاظت کریں اور اس کے احکام پر خود بھی عمل پیرا ہوں اور دوسروں کو بھی اس کی تبلیغ کریں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔پس تحملہ کا مطلب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زیر آیت ہذا تفسیر کبیر سورۃ مریم میں یہ کئے ہیں کہ : ” جب انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تو ماں ان کے ساتھ تصدیق کرتی اور انکے دعوی کی تائید کرتی ہوئی آئی اس طرح حملہ کے معنی حوصلہ دلانے اور ہمت بڑھانے کے بھی ہو سکتے ہیں پس فَأَتَتْ بهِ قَوْمَهَا تَحْمِلُه ، (سورة مريم: آیت ۲۸) کے یہ معنی نہیں کہ حضرت مسیح کو اٹھائے ہوئے تھیں بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ مسیح کی تعلیم پر عمل کرنے والی اور اس کی تصدیق کرنے والی تھیں گویا انجیل نے جو الزام لگایا تھا کہ حضرت مریم مسیح کو نہیں مانتی تھیں قرآن کریم نے فَأَتَتْ بِهِ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُ ، کے الفاظ میں اس کی تردید کی ہے۔اور بتایا ہے کہ یہ بالکل غلط ہے وہ تو مسیح کے ساتھ ساتھ آئی تھیں اور کہتی جاتی تھیں کہ میں اس پر ایمان لاتی ہوں یہ سچا ہے تم کہتے ہو یہ حرام کا