حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 240
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل - 240 چنا گیا اور عہد نامہ جدید وقت کی ضرورت اور چرچ کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ وقوع پذیر ہوا۔پس جو چھوڑ دیا گیا وہ بھی ویسا ہی اہم تھا جیسے ان اناجیل اربعہ کو اہمیت دی جاتی ہے۔اس باب کے مطالعہ سے یہ تو معلوم ہوا ہوگا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے کبھی الوہیت کا دعوی نہیں کیا بلکہ تمام عمر توحید کی منادی کرتے رہے اور آپ پر ابتدا ایمان لانے والے بھی تو حید کے علمبردار تھے۔مگر بہت بعد میں مشرک غیر اقوام کی تسلی کی خاطر الوہیت مسیح کا مسئلہ ایجاد کیا گیا تا کہ ان کی تعداد یعنی Quantity کو حاصل کیا جا سکے لیکن اس بات کا خیال نہ کیا گیا کہ عیسائیت ، جو یہودیت کا بچہ تھا ، اس کی Quality میں سرے سے ہی بگاڑ پیدا ہوتا چلا جارہا ہے اور عیسائی صاحبان اناجیل، جن کی اپنی الہامی حیثیت کچھ بھی نہیں ہے ، کے بعض مقامات سے تاویلات کے رنگ میں استدلال کرنے لگ گئے اور اس طرح انہوں نے اپنے مذہب کو کلیپ مسخ کر دیا۔