حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 229
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - 229 سوئم: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ کھانا کھایا کرتے تھے گویا اب نہیں کھاتے۔یعنی اب وہ زندہ نہیں ہیں انکی زندگی کیلئے کھانے کی احتیاج لازمی تھی۔پس موت بھی الوہیت مسیح کی تردید کا ثبوت ہے۔اس دلیل کے جواب میں عبد اللہ آتھم نے کہا تھا کہ : ہم اس شے مرئی کو جو کھانے پینے وغیرہ حاجات کے ساتھ ہے اللہ نہیں مانتے مگر مظہر اللہ ہم نے ابن اللہ جسم کو نہیں مانا ہم اللہ کو روح جانتے ہیں جسم نہیں۔“ ( اثبات تثلیث فی توحید از عبداللہ انھم پنجاب ریلجیس سوسائیٹی ، لاہور ) یہ جواب تو دھو کے پر مبنی ہے کیونکہ سوال یہ ہے کہ مسیح کے اندر کون سی روح تھی اگر روح انسانی تھی تو اُن کو بیک وقت کامل خدا اور کامل انسان قرار نہیں دیا جا سکتا۔کیونکہ جسم بھی انسان کا اور روح بھی انسان کی۔اگر ان کے اندر روح خدائی تھی تو اول ان کو کامل خدا کہنا چاہئے۔اور انسان نہیں کہنا چاہئے کیونکہ نام روح کی بنا پر دیا جاتا ہے نہ کہ جسم کی ظاہری شکل پر دوئم اس صورت میں روح خدائی جو ان کے اندر تھی اس کھانے پینے سے متاثر ہوئی تھی کیونکہ کھانے پینے کا اثر روح پر مسلم ہے اور یہ بات کہ خدائی روح کھانے پینے سے متاثر ہوئی باتفاق فریقین غلط ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: كَانَا يَا كَلانِ الطَّعَامِ یعنی وہ دونوں حضرت مسیح اور آپ کی والدہ صدیقہ کھانا کھایا کرتے تھے۔اب آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ انسان کیوں کھانا کھاتا ہے کیوں کھانے کھانے کا محتاج ہے اس میں اصل بھید یہ ہے کہ ہمیشہ انسان کے بدن میں سلسلہ تحلیل کا جاری ہے یہاں تک کہ تحقیقات قدیمہ اور جدیدہ سے ثابت ہوتا ہے کہ چند سالوں میں پہلا جسم تحلیل ہو کر معدوم ہو جاتا ہے۔اب جبکہ یہ حال ہے تو کس قدر مرتبہ خدائی سے بعید ہو گا کہ اپنے اللہ کا جسم بھی ہمیشہ اڑتا ہے اور تین چار برس کے بعد اور جسم آوے ماسوا اس کے کھانے کا محتاج ہونا بالکل اس مفہوم کا مخالف ہے۔جو خدا تعالیٰ کی