حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 205 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 205

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - 205 اس طرح یہاں عہد نامہ قدیم کی رو سے مسیح کی ازلیت اور ابدیت باطل ہوگئی اور ملک صدق بھی آپ کی الوہیت میں شریک ہو گیا۔نیز عہد نامہ جدید سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کیلئے کل اور آج یکساں نہ تھے اور نہ ہی آپ کو علم کے لحاظ سے ہی ازلی ابدی ہونے کا مقام حاصل تھا لکھا ہے۔()۔انجیر کے درخت کا علم نہ ہوا کہ اس میں پھل ہے یا نہیں۔(متی باب ۲۱ آیت ۱۹) (۲) مجھے کسی نے چھوا۔(لوقا باب آیت ۵۴ مرقس باب ۵ آیت ۳۰) پس جس شخص کو معمولی باتوں کا بھی علم نہیں تھا اس کو ازلی ابدی اور اس کے لئے کل اور آج یکساں قرار دے دینا کیسا ظلم ہے۔حضرت مسیح کا بے باپ ہونا بھی الوہیت مسیح کی صداقت کی دلیل سمجھی جاتی ہے حالانکہ حضرت آدم بن باپ اور بن ماں تھے تب انہیں بھی خدا ہونے کا حق حاصل اسی طرح ملک صدق سالم بھی مجسم خدا ہونے کا حقدار ٹھہرتا ہے۔اور اگر بے باپ ہونا ہی دلیل الوہیت ہے تو ابتدائے آفرنیش میں پیدا ہونے والے بے باپ بے ماں بہت سی مخلوقات بھی خدائی کی حقدار ٹھہریں گی جبکہ آپ علیہ السلام کے بے باپ پیدا ہونے کا مسئلہ بھی بعض معترضین کے نزدیک مسلم نہیں ہے اور وہ تو حضرت مریم علیہ السلام پر الزام تراشی سے کام لیتے ہیں۔ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ آدم نے گناہ کیا اس وجہ سے اس کی تمام نسل میں گناہ کا بیج بویا گیا اور تمام انسان گناہ میں گرفتار ہو گئے۔مسیح چونکہ آدم کی پشت سے نہیں تھا اس لئے وہ گنہ گار نہ پیدا ہوا گناہ سے پاک صرف خدا ہے اس لئے مسیح خدا ہوا۔اس دلیل میں بیان شدہ تمام دعاوی غیر صحیح ہیں ہم نمبر وار ان کا جائزہ لیتے ہیں۔۔۔۔آدم کے گناہ کی وجہ سے اس کی نسل کا گناہ گار ٹھہر ناخدا کے عدل کے خلاف ہے یہ عدل