حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 176
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل انہوں نے اس سے کہا ان بدکاروں کو بری طرح ہلاک کرے گا اور تاکستان کا ٹھیکہ دوسرے باغبانوں کو دے گا جو موسم پر اس کو پھل دیں۔یسوع نے ان سے کہا کیا تم نے کتاب مقدس میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معماروں نے رڈ کیا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا۔یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے۔اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے گی دی دی جائے گی اور جو اس پتھر پہ گرے گا ٹکرے ٹکڑے ہو جائے گا لیکن جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا اور جب سردار کا ہنوں اور فریسیوں نے اس کی تمثیلیں سنیں تو سمجھ گئے کہ ہمارے حق میں کہتا ہے۔اور وہ اسے پکڑنے کی کوشش میں تھے لیکن لوگوں سے ڈرتے تھے کیونکہ وہ اسے نبی جانتے تھے۔“ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: 176 (متی باب ۲۱ آیت ۴۱ تا ۴۶) إِنَّ مَثَلِيْ وَمَثَلَ الأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِى كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنِي بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَاجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لِبْنَةٍ مِّنْ زَاوِيَةِ فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ له ويَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا بُنيانَا اَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِلَّا هَذِهِ اللَّبْنَةِ فَكُنْتُ أَنَا تِلْكَ اللَّبْنَةَ۔مسلم جلدم کتاب الفضائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم ) ترجمہ: میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسے شخص کی مثال کی طرح ہے جو ایک گھر بنائے اور اسکو اچھا بنائے اور خوبصورت بنائے سوائے ایک اینٹ کی جگہ کے جو ایک کونے میں ہو پس لوگ اس کا طواف کریں گے اور حیران ہوں گے اور کہیں گے کہ یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ