حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 173 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 173

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔173 یسوع کی فرمودہ تمام باتیں پطرس کے ساتھیوں کو مختصر طور پر پہنچا دی گئیں۔انہوں نے انہیں مختلف اطراف میں پھیلا دیا۔اس کے بعد یسوع خود بھی مشرق سے ظاہر ہوا۔اور اس نے ان لوگوں کے ذریعہ مقدس بے عیب دائمی نجات کی تعلیمات کو مغرب تک پہنچایا۔آمین۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی جماعت احمدیہ نے اپنی کتاب ” مسیح ہندوستان میں“ تفصیل سے اس بات پر روشنی ڈالی ہے اور بادلائل تحریر فرمایا ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام ہجرت فرمانے کے بعد اسباط بنی اسرائیل کے درمیان کشمیر میں آکر سکونت پذیر ہو گئے تھے اور آپکا یہ کہنا بجا تھا کہ: ” میری اور بھی بھیڑیں ہیں جو اس بھیٹر خانے کی نہیں مجھے ان کا بھی لانا ضرور ہے 66 اور وہ میری آواز سنیں گی پھر ایک ہی گلہ ہوگا اور ایک ہی چرواہا ہوگا۔“ (یوحنا باب ۱۰ آیت ۱۶) اسی طرح آپ نے اپنے حواریوں کو بھی یہ نصیحت فرمائی تھی کہ وہ غیر اسرائیلیوں کے پاس تبلیغ کی غرض سے نہ جائیں جیسا کہ لکھا ہے: ان بارہ کو یسوع نے بھیجا اور ان کو حکم دیکر کہا۔غیر قوموں کی طرف نہ جانا سامریوں کے شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا۔“ ( متی باب ۱۰ آیت ۵ تا۶) چنانچہ بائیل میں ایسے حوالے ملتے ہیں جن میں لکھا ہے: اور ضرور ہے کہ پہلے سب قوموں میں انجیل کی منادی کی جائے۔(مرقس باب ۱۳ آیت ۱۱) تو لفظ سب قوموں سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے یہاں پر قوم سے مراد وہی منتشر اسباط اسرائیل ہی ہیں انہیں قومیں کہا گیا ہے۔