حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 164 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 164

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل باب ہفتم حضرت مسیح علیہ السلام کا مشن : 164 انبیاء کرام کا اہم فریضہ ہدایت پھیلانا اور غلط مروجہ خیالات کو دور کرنا ہوتا ہے۔اس کیلئے وہ احکامات شریعت کی حکمتوں کو بیان کرتے اور خود اُن احکام پر عمل کر کے ایک پاک نمونہ پیش کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی اپنے زمانہ میں شریعت موسویہ پر عمل کیا اور کروایا جسے گذشتہ ابواب میں بیان کیا جا چکا ہے۔اور آپ کا یہ کام بنی اسرائیل کیلئے تھا اور آپ اس امت کے ہادی تھے۔جیسا کہ آپ نے فرمایا: نہ تم ہادی کہلاؤ کیونکہ تمہارا ہادی ایک ہی ہے یعنی مسیح ( متی باب ۲۳ آیت ۱۰) اس باب میں معلوم کرتے ہیں کہ آپ کا دائرہ عمل کیا تھا اور وہ کون سے اہم امور تھے جن کی وجہ سے آپ کو مبعوث کیا جانا ضروری تھا۔قرآن کریم میں حضرت مسیح علیہ السلام کے مشن کا ذکر وَإِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَبَنِي إِسْرَاءِ يْلَ إِنِّي رَسُوْلُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُّصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرً ا بِرَسُوْلِ يَأْتِي مِنْ بَعْدِى اسْمُهُ أَحْمَدُ، فَلَمَّا جَاءَ هُمْ بِالْبَيِّنَتِ قَالُوْا هَذَا سِحْرٌ (سورة الصف: آیت 7) ترجمہ: اور یاد کرو جب عیسیٰ ابن مریم نے اپنی قوم سے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں