حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 109
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 109 جاتے تھے۔اور اسی لئے حضرت عیسی علیہ السلام اس لفظ کے استعمال میں احتیاط فرماتے تھے چنانچہ اسی خیال کے پیش نظر فریسیوں نے ایک بار آپ سے پوچھا بھی تھا کہ خدا کی بادشاہی کب آئے گی اور اس غیر یہودی بادشاہت سے کب نجات ملے گی۔آپ نے انہیں حقیقت حال سے اسطرح آگاہ فرمایا کہ خدا کی بادشاہی ظاہری طور پر نہ آئے گی۔اور لوگ یہ نہ کہیں گے کہ یہاں ہے یا وہاں ہے (لوقا باب ۱۷ آیت ۲۰) لیکن اس کے باوجود بھی جو شخص آپ کو بطور مسیح کے پہچان لیتا تھا آپ اس پر خوش ہوتے تھے جیسا کہ لکھا ہے: ())۔۔۔” پھر یسوع اور اس کے شاگرد قیصر فلپی کے گاؤں چلے گئے اور راہ میں اس نے اپنے شاگردوں سے یہ پوچھا کہ لوگ مجھے کیا کہتے ہیں انہوں نے جواب دیا کہ یوحنا بپتسمہ دینے والا اور بعض ایلیاہ اور بعض نبیوں میں سے کوئی اس نے پوچھا لیکن تم مجھے کیا کہتے ہو۔پطرس نے جواب میں اس سے کہا کہ تو مسیح ہے۔پھر اس نے ان کو تاکید کی کہ میری بابت کسی سے یہ نہ کہنا پھر وہ انکو تعلیم دینے لگا۔“ خدا کا مسیح ( مرقس باب ۸ آیت ۲۷ تا ۳۱ ) (۲) اس نے اُن سے کہا لیکن تم مجھے کیا کہتے ہو؟ پھر اس نے جواب دیا کہ دو (لوقا باب ۹ آیت ۲۰) (۳) دوسرے دن پھر یوحنا اور اس کے شاگردوں میں سے دو شخص کھڑے تھے۔اس یسوع پر جو جار ہا تھا نگاہ کر کے کہا دیکھو یہ خدا کا بر ہ ہے وہ دونوں شاگر داس کو یہ کہتے ہوئے سن کر یسوع کے پیچھے ہو لئے ایک شمعون پطرس کا بھائی اندریاس تھا۔اس نے سب سے پہلے اپنے سگے بھائی شمعون سے ملکر اس سے کہا کہ ہم کوخرستس یعنی مسیح مل گیا وہ اسے یسوع کے پاس لایا۔یسوع نے اس پر نگاہ کر کے کہا کہ تو یوحنا کا بیٹا شمعون ہے تو کیفا یعنی پطرس کہلائے گا۔“ ( یوحنا باب ۱ آیات ۳۵ تا ۴۲)