حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 108
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل میں ) یسعیاہ نبی کی کتاب اس کو دی گئی اور کتاب کھول کر اس نے وہ مقام نکالا جہاں پر لکھا تھا کہ خداوند کا روح مجھ پر اسلئے اس نے مجھے غریبوں کو خوشخبری دینے کیلئے مسح کیا۔اس نے مجھے بھیجا ہے کہ قیدیوں کو رہائی اور اندھوں کو بینائی پانے کی خبر سناؤں کچلے ہوؤں کو آزاد کروں۔اور خداوند کے سال مقبول کی منادی کروں۔“ 108 (لوقا باب ۴ آیت ۱۴ تا ۱۹) پس آپ کا اصل دعوی دعویٰ مسیحیت تھا اور اس وقت مسیح کا انتظار بھی کیا جارہا تھا اور آپ کا مشن یہ تھا کہ بنی اسرائیل کو بنوا سماعیل میں سے آنے والے عظیم الشان نبی کی بشارت دی جائے۔وہ نبی جس کے متعلق لکھا ہے: خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں ( یعنی بنو اسماعیل میں سے ) تیری مانند ایک نبی پر پا کرے گا۔“ استثنا باب ۱۸ آیت (۱۵) اور مسیح علیہ السلام جب اس آسمانی بشارت کو بیان فرماتے تھے اور کہتے تھے کہ: ” خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اُس قوم کو جو اس کے پھل لائے دیدی جائے گی۔“ ( متی باب ۲۱ آیت ۴۳) تو یہودی یہ سوچ کر، کہ یہ مسیح تو ہم سے انعامات نبوت جو ہماری میراث ہیں ہم سے چھین کر کسی اور قوم کو دینے کیلئے آگیا ہے، مشتعل ہو جاتے تھے۔پھر ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہودی آج کل کے مسلمانوں کی طرح ایسے خونی مسیح کے منتظر تھے جو طاقت کے ذریعہ غیر یہودی حکومت کو ہٹا کر یہود کو آزاد بھی کرائے اور ان کی حکومت قائم کرے اسی لئے مسیح کو ابن داؤد کہا اور سمجھا جاتا تھا چنانچہ اس لئے یہود بھی اور حکومت بھی جب آپ کے متعلق مسیح کا لفظ سنتے تو غلط فہمی کا شکار ہو