حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 94
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 94 کے فقہ کو ترجیح دیتے تھے اور اس کی آپ نے تعلیم پائی تھی۔اور آپ سختی سے موسوی شریعت پر عمل کرتے تھے اور نیکی اور راستبازی سے زندگی بسر کرتے تھے۔اس لئے جب آپ نے دیکھا کہ یوحنا گناہوں کی معافی کا پستمہ دے رہا ہے تو اس تڑپ کی وجہ سے کہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جائے گا آپ نے یوحنا سے گناہوں کی معافی کا بپتسمہ لیا اور اس کے بعد آپ نے بیابان میں چلہ کشی بھی کی۔شیطان کی سخت آزمائش سے بھی سابقہ پڑا۔لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کے نبی حضرت ی علیہ السلام کی بیعت کر چکے تھے اور اُن سے فیض حاصل کر چکے تھے۔اس لئے آپ شیطانی آزمائش میں کامیاب ہوئے اور روحانی مجاہدات کے ذریعہ روحانیت میں ترقی کرتے رہے۔آپ کی اس تڑپ اور کوشش سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ آپ اس سے قبل بھی خدا تعالیٰ کی شریعت کے موافق سب احکام بجالاتے تھے جیسا کہ آپ نے بعد میں دوسروں کو تا کید بھی کی اور کہا: اگر تو زندگی میں داخل ہونا چاہتا ہے تو حکموں پر عمل کر۔“ ( متی باب ۱۹ آیت ۱۷) پس اس جذبہ کے تحت آپ نے حضرت یحیی کی بیعت کی اور گناہوں کی معافی کا پیستمہ لیا جیسا کہ لکھا ہے: (1) اُن دنوں یہودیہ کے بیابان میں یوحنا منادی کرنے لگا کہ تو بہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہت نزدیک آگئی ہے اس وقت یروشلم اور سارے یہودہ اور بردن کے گردو نواح کے سب لوگ نکل کر اس کے پاس گئے اور اپنے گناہوں کا اقرار کر کے دریائے مردن میں اس سے بپتسمہ لیا۔اس وقت یسوع گلیل سے بردن کے کنارے یوحنا کے پاس آیا۔اس سے بپتسمہ لینے لگا۔اور یسوع بپتسمہ لیکر فی الفور پانی میں سے اوپر گیا اور ( متی باب ۳ آیت ا تا ۱۶) دیکھو اس کیلئے آسمان کھل گیا۔“ (۲)۔۔۔۔مرقس کہتا ہے: